خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 12
خطبات مسرور جلد ہشتم 12 2 خطبہ جمعہ فرمودہ مور محمد 08 جنوری 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 جنوری 2010ء بمطابق 8 صلح 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: مَنْ ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضْحِفَهُ لَةَ أَضْعَافًا كَثِيرَةً وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْقُطُ وَإِلَيْهِ وروور ترجعون ( البقرة : 246) دنیا میں کسی بھی نظام کو چلانے کے لئے سرمایہ یا روپیہ پیسہ انتہائی ضروری اور بڑا اہم ہے۔چاہے وہ دنیاوی نظام ہے یا دینی اور مذہبی نظام ہے تاکہ ملکی، معاشرتی، جماعتی ضرورتوں کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی بھی ہوتی رہے۔چندوں کی ابتداء اس بات کو بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ” چندے کی ابتدا اس سلسلہ سے ہی نہیں ہے بلکہ مالی ضرورتوں کے وقت نبیوں کے زمانہ میں بھی چندے جمع کئے گئے تھے۔ایک وہ زمانہ تھا کہ ذرا چندے کا اشارہ ہوا تو تمام گھر کا مال لا کر سامنے رکھ دیا۔پیغمبر خدائی ایم نے فرمایا کہ حسب مقدور کچھ دینا چاہئے اور آپ کی منشاء تھی کہ دیکھا جاوے کہ کون کس قدر لاتا ہے“۔فرمایا ” ایک آدمی سے کچھ نہیں ہوتا جمہوری امداد میں برکت ہوا کرتی بڑی بڑی سلطنتیں بھی آخر چندوں پر ہی چلتی ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ دنیاوی سلطنتیں زور سے ٹیکس وغیرہ لگا کر وصول کرتے ہیں اور یہاں ہم رضا اور ارادہ پر چھوڑتے ہیں۔چندہ دینے سے ایمان میں ترقی ہوتی ہے اور یہ محبت اور اخلاص کا کام ہے“۔زکوة لازمی چنده ہے۔(ملفوظات جلد سوم صفحه 361 مطبوعہ ربوہ) پس جماعت میں جو چندوں کا نظام رائج ہے یہ اسی اصول کے تحت ہے کہ جماعتی ضروریات