خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 10
خطبات مسرور جلد ہشتم 10 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم جنوری 2010 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ”توبہ انسان کے واسطے کوئی زائد یا بے فائدہ چیز نہیں ہے۔اور اس کا اثر صرف قیامت پر ہی منحصر نہیں بلکہ اس سے انسان کی دنیا اور دین دونو سنور جاتے ہیں۔اور اسے اس جہان میں اور آنے والے جہان دونو میں آرام اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے۔دیکھو قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رَبَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرة:202)۔اے ہمارے رب ہمیں اس دنیا میں بھی آرام اور آسائش کے سامان عطا فرما۔اور آنے والے جہاں میں آرام اور راحت عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔دیکھو در اصل ربنا کے لفظ میں تو بہ ہی کی طرف ایک باریک اشارہ ہے کیونکہ ربنا کا لفظ چاہتا ہے کہ وہ بعض اور رہوں کو جو اُس نے پہلے بنائے ہوئے تھے ان سے بیزار ہو کر اس رب کی طرف آیا ہے۔اور یہ لفظ حقیقی درد اور گداز کے سوا انسان کے دل سے نکل ہی نہیں سکتا۔رب کہتے ہیں بتدریج کمال کو پہنچانے والے اور پرورش کرنے والے کو۔اصل میں انسان نے بہت سے ارباب بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔اپنے حیلوں اور دغابازیوں پر اسے پورا بھروسہ ہوتا ہے تو وہی اس کے ربّ ہوتے ہیں۔اگر اسے اپنے علم کا یا قوت بازو کا گھمنڈ ہے تو وہی اُس کے ربّ ہیں۔اگر اسے اپنے حسن یا مال و دولت پر فخر ہے تو وہی اُس کا رب ہے۔غرض اس طرح کے ہزاروں اسباب اس کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔جب تک اُن سب کو ترک کر کے اُن سے بیزار ہو کر اس واحد لاشریک سچے اور حقیقی رب کے آگے سر نیاز نہ جھکائے اور ربنا کی پُر درد اور دل کو پگھلانے والی آوازوں سے اس کے آستانہ نہ گرے تب تک وہ حقیقی رب کو نہیں سمجھا۔پس جب ایسی دلسوزی اور جان گدازی سے اُس کے حضور اپنے گناہوں کا اقرار کر کے تو بہ کرتا اور اُسے مخاطب کرتا ہے کہ ربنا یعنی اصلی اور حقیقی رب تو تو ہی تھا مگر ہم اپنی غلطی سے دوسری جگہ بہکتے پھرتے رہے۔اب میں نے ان جھوٹے بتوں اور باطل معبودوں کو ترک کر دیا ہے اور صدق دل سے تیری ربوبیت کا اقرار کرتا ہوں اور تیرے آستانہ پر آتا ہوں۔غرض بجز اس کے خدا کو اپنا رب بنانا مشکل ہے جب تک انسان کے دل سے دوسرے رہ اور اُن کی قدرومنزلت و عظمت و وقار نکل نہ جاوے تب تک حقیقی رب اور اس کی ربوبیت کا ٹھیکہ نہیں اٹھاتا“۔پھر فرمایا ”بعض لوگوں نے جھوٹ ہی کو اپنا رب بنایا ہوا ہوتا ہے۔وہ جانتے ہیں کہ ہمارا جھوٹ کے بدوں گزارہ مشکل ہے۔بعض چوری و راہزنی اور فریب دہی ہی کو اپنا رب بنائے ہوئے ہیں۔ان کا اعتقاد ہے کہ اس راہ کے سوا ان کے واسطے کوئی رزق کا راہ ہی نہیں۔سو ان کے ارباب وہ چیزیں ہیں۔دیکھو ایک چور جس کے پاس سارے نقب زنی کے ہتھیار موجود ہیں اور رات کا موقع بھی