خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 257
خطبات مسرور جلد ہشتم 257 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2010 جہاں اپنی دائمی زندگی میں خدا تعالیٰ کی رضا کو پالیا ہے وہاں خدا تعالیٰ کے دین کی آبیاری کا باعث بھی بن گئے ہیں۔ہمارے خون کے ایک ایک قطرے سے ہزاروں ثمر آور درخت نشو و نما پانے والے ہیں۔ہمیں فرشتوں نے اپنی آغوش میں لے لیا ہے۔ہمیں تو اپنی جان دیتے ہوئے بھی پتہ نہیں لگا کہ ہمیں کہاں کہاں اور کتنی گولیاں لگی ہیں ؟ ہمیں گرینیڈ سے دیئے گئے زخموں کا بھی پتہ نہیں لگا۔یہ صبر ورضا کے پیکر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے بے چین ، دین کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے ، گھنٹوں اپنے زخموں اور ان میں سے بہتے ہوئے خون کو دیکھتے رہے لیکن زبان پر حرف شکایت لانے کی بجائے دعاؤں اور درود سے اپنی اس حالت کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بناتے رہے۔اگر کسی نے ہائے یا اُف کا کلمہ منہ سے نکالا تو سامنے والے زخمی نے کہا ہمت اور حوصلہ کرو، لوگ تو بغیر کسی عظیم مقصد کے اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں تم تو اپنے ایک عظیم مقصد کے لئے قربان ہونے جارہے ہو۔اور پھر وہ اُف کہنے والا آخر دم تک صرف درود شریف پڑھتا رہا۔آنحضرت صلی علی کم پر درود بھیجتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول صلی این کم کو یہ یقین کرواتا رہا کہ ہم نے جو مسیح محمدی سے عہد کیا تھا اسے پورا کر رہے ہیں۔میں نے ایک ایسی دردناک ویڈیو دیکھی، جو زخمیوں نے ہی اپنے موبائل فون پر ریکارڈ کی تھی۔اس کو دیکھ کر دل کی عجیب کیفیت ہو جاتی ہے۔پس یہ وہ لوگ ہیں جن سے بیشک قربانیاں تو خدا تعالیٰ نے لی ہیں لیکن اس کے فرشتوں نے ان پر سکینت نازل کی ہے۔اور یہ لوگ گھنٹوں بغیر کراہے صبر ورضا کی تصویر بنے رہے۔فون پر لاہور کے ایک لڑکے نے مجھے بتایا کہ میرے 19 سالہ بھائی کو چار پانچ گولیاں لگیں، لیکن زخمی حالت میں گھنٹوں پڑا رہا ہے ، اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں اور دعائیں کرتارہا۔اگر پولیس بر وقت آجاتی تو بہت سی قیمتی جانیں بچ سکتی تھیں۔لیکن جب پورا نظام ہی فساد میں مبتلا ہو تو ان لوگوں سے کیا توقعات کی جا سکتی ہیں؟ ایک نوجوان نے دشمن کے ہینڈ گرینیڈ کو اپنے ہاتھ پر روک لیا اس لئے کہ واپس اس طرف لوٹا دوں لیکن اتنی دیر میں وہ گرینیڈ پھٹ گیا اور اپنی جان دے کر دوسروں کی جان بچالی۔ایک بزرگ نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر نوجوانوں اور بچوں کو بچالیا۔حملہ آور کی طرف ایک دم دوڑے اور ساری گولیاں اپنے سینے پر لے لیں۔آج پولیس کے آئی جی صاحب بڑے فخر سے یہ بیان دے رہے ہیں کہ ، پولیس نے دو دہشت گردوں کو پکڑ لیا۔جب اوپر سے نیچے تک ہر ایک جھوٹ اور سچ کی تمیز کرنا چھوڑ دے تو پھر ایسے بیان ہی دیئے جاتے ہیں۔دو دہشت گرد جو پکڑے گئے ہیں انہیں بھی ہمارے ہی لڑکوں نے پکڑا۔اور پکڑنے والا بھی مجھے بتایا گیا، ایک کمزور سالڑ کا تھا یعنی بظاہر جسمانی لحاظ سے بڑے ہلکے جسم کا مالک تھا لیکن ایمان سے بھر اہو اتھا۔اس نے ایک ہاتھ سے اس دہشتگرد کی گردن دبوچے رکھی اور دوسرے ہاتھ سے اس کی جیکٹ تک اس کا ہاتھ نہ جانے دیا، اس ہک تک اس کا ہاتھ نہ جانے دیا جسے وہ کھینچ کر اس کو پھاڑنا چاہتا تھا۔