خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 258
خطبات مسرور جلد ہشتم 258 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2010 یہ بیچارے لوگ جو نوجوان دہشت گرد ہیں، چھوٹی عمر کے ، اٹھارہ انیس سال کے ، یا بیس بائیس سال کے لڑکے تھے ، یہ بیچارے غریب تو غریبوں کے بچے ہیں۔بچپن میں غربت کی وجہ سے ظالم ٹولے کے ہاتھ آجاتے ہیں جو مذہبی تعلیم کے بہانے انہیں دہشت گردی سکھاتے ہیں اور پھر ایسا brain wash کرتے ہیں کہ ان کو جنت کی خوشخبریاں صرف ان خود کش حملوں کی صورت میں دکھاتے ہیں۔حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث بنے والی موت ہے۔لیکن یہ بات سمجھنے سے اب یہ لوگ قاصر ہو چکے ہیں۔ان دہشت گردوں کے سرغنوں کو کبھی کسی نے سامنے آتے نہیں دیکھا، کبھی اپنے بچوں کو قربان کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔اگر قربانیاں دیتے ہیں تو غریبوں کے بچے، جن کے برین واش کئے جاتے ہیں۔بہر حال ایسے دود ہشت گرد جو پکڑے گئے ،ہمارے اپنے لڑکوں نے ہی پکڑے۔یہ فرشتوں کا اترنا اور تسکین دینا جہاں ان زخمیوں پر ہمیں نظر آتا ہے وہاں پیچھے رہنے والے بھی اللہ تعالیٰ کے اس خاص فضل کی وجہ سے تسکین پارہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان پر رکھا ہوا ہے۔اس ایمان کی وجہ سے جو زمانے کے امام کو ماننے کی وجہ سے ہم میں پیدا ہوا یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا ہے کہ جاؤ اور میرے بندوں کے دلوں کی تسکین کا باعث بنو۔ان دعائیں کرنے والوں کے لئے تسلی اور صبر کے سامان کرو۔اور جیسا کہ میں نے کہا، ہر گھر میں مجھے یہی نظارے نظر آئے ہیں۔ایسے ایسے عجیب نظارے ہیں کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کیسے کیسے لوگ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائے ہوئے ہیں۔ہر ایک إِنَّمَا اشْلُوا بَغِي وَحُزْنَى إِلَى اللهِ (يوسف : 87) کہ میں اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ تعالیٰ کے حضور کرتاہوں کی تصویر نظر آتا ہے۔اور یہی ایک مومن کا طرہ امتیاز ہے۔مومنوں کو غم کی حالت میں صبر کی یہ تلقین خدا تعالیٰ نے کی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ إِنَّ اللهَ مَعَ الصّبِرِينَ ( البقرة:154) اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو۔صبر اور صلوۃ کے ساتھ اللہ سے مددمانگو، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔پس ایک بندہ تو خدا تعالیٰ کے آگے ہی اپنا سب کچھ پیش کرتا ہے ، جو اللہ کا حقیقی بندہ ہے ، عبد رحمان ہے، جزع فزع کی بجائے، شور شرابے اور جلوس کی بجائے ، قانون کو ہاتھ میں لینے کی بجائے، جب صبر اور دعاؤں میں اپنے جذبات کو ڈھالتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی بشارتوں کا حق دار ٹھہرتا ہے۔مومنوں کی جماعت کو خدا تعالیٰ نے پہلے ہی آزمائشوں کے متعلق بتا دیا تھا۔یہ فرما دیا تھا کہ آزمائشیں آئیں گی۔فرماتا ہے۔وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصُّبِرِينَ (البقرة:156) اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف اور کچھ بھوک اور کچھ اموال اور جانوں اور پھلوں کے نقصان کے ذریعے سے آزمائیں گے۔اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دے۔پس صبر اور دعائیں کرنے والوں کے لئے خدا تعالیٰ نے خوشیوں کی خبریں سنائی ہیں۔اپنی رضا کی جنت کا