خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 256 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 256

خطبات مسرور جلد ہشتم 256 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2010 اپنے مسائل بھول گئے۔یہ خطوط پاکستان سے بھی آرہے ہیں، عرب ممالک سے بھی آرہے ہیں ، ہندوستان سے بھی آرہے ہیں، آسٹریلیا اور جزائر سے بھی آرہے ہیں۔یورپ سے بھی آرہے ہیں، امریکہ سے بھی آرہے ہیں، افریقہ سے بھی آرہے ہیں، جن میں پاکستانی نژاد احمدیوں کے جذبات ہی نہیں چھلک رہے کہ ان کے ہم قوموں پر ظلم ہوا ہے۔باہر جو پاکستانی احمدی ہیں، ان کے وہاں عزیزوں یا ہم قوموں پر ظلم ہوا ہے۔بلکہ ہر ملک کا باشندہ جس کو اللہ تعالٰی نے مسیح محمدی کی بیعت میں آنے کی توفیق دی، یوں تڑپ کر اپنے جذبات کا اظہار کر رہا تھا یا کر رہا ہے جس طرح اس کا کوئی انتہائی قریبی خونی رشتہ میں پرویا ہو ا عزیز اس ظلم کا نشانہ بنا ہے۔اور پھر جن کے قریبی عزیز اس مقام کو پاگئے ، اس شہادت کو پاگئے ، ان کے خطوط تھے جو مجھے تسلیاں دے رہے تھے اور اپنے اس عزیز، اپنے بیٹے، اپنے باپ، اپنے بھائی، اپنے خاوند کی شہادت پر اپنے رب کے حضور صبر اور استقامت کی ایک عظیم داستان رقم کر رہے تھے۔پھر جب میں نے تقریباً ہر گھر میں کیونکہ میں نے تو جہاں تک یہاں ہمیں معلومات دی گئی تھیں، اس کے مطابق ہر گھر میں فون کر کے تعزیت کرنے کی کوشش کی۔اگر کوئی رہ گیا ہو تو مجھے بتادے۔جیسا کہ میں نے کہا میں نے ہر گھر میں فون کیا تو بچوں، بیویوں ، بھائیوں، ماؤں اور باپوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی پایا۔خطوط میں تو جذبات چھپ بھی سکتے ہیں، لیکن فون پر ان کی پر عزم آوازوں میں یہ پیغام صاف سنائی دے رہا تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو سامنے رکھتے ہوئے مومنین کے اس رد عمل کا اظہار بغیر کسی تکلف کے کر رہے ہیں کہ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُون۔ہم پورے ہوش و حواس اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ادراک کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا پر خوش ہیں۔یہ ایک ایک دو دو قربانیاں کیا چیز ہیں ہم تو اپنا سب کچھ اور اپنے خون کا ہر قطرہ مسیح موعود کی جماعت کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔اس لئے تیار ہیں کہ آج ہمارے لہو ، آج ہماری قربانیاں ہی حضرت محمد رسول اللہ صلی للی نظم کے افضل الرسل اور خاتم الانبیاء ہونے کا اظہار اور اعلان دنیا پر کریں گی۔ہم وہ لوگ ہیں جو قرونِ اولیٰ کی مثالیں قائم کریں گے۔ہم ہیں جن کے سامنے صحابہ رسول صلی علیہ کم کا عظیم نمونہ پھیلا ہوا ہے۔یہ سب خطوط ، یہ سب جذبات پڑھ اور سن کر اپنے جذبات کا اظہار کرنا تو میرے بس کی بات نہیں ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اس یقین پر قائم کر دیا، مزید اس میں مضبوطی پیدا کر دی کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیارے يقيناً ان اعلیٰ مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائے ہیں جن کے پورا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے تھے۔یہ صبر و استقامت کے وہ عظیم لوگ ہیں، جن کے جانے والے بھی ثبات قدم کے عظیم نمونے دکھاتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَا وَ لَكِن لَّا تَشْعُرُونَ (البقرة 155) کے مصداق بن گئے ، اور دنیا کو بھی بتاگئے کہ ہمیں مردہ نہ کہو۔بلکہ ہم زندہ ہیں۔ہم نے