خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 255
خطبات مسرور جلد ہشتم 255 23 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ 4 جون 2010ء بمطابق 4 احسان 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلبِكَةُ أَلَا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ ابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ اَولِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ وَ لَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِيَ أَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ (حم سجده: 31 تا 33) یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کہا اللہ ہمارا رب ہے۔پھر استقامت اختیار کی، ان پر بکثرت فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ خوف نہ کرو اور غم نہ کھاؤ اور اس جنت ( کے ملنے) سے خوش ہو جاؤ جس کا تم وعدہ دیئے جاتے ہو۔ہم اس دنیاوی زندگی میں بھی تمہارے ساتھ ہیں اور آخرت میں بھی۔اور اس میں تمہارے لئے وہ سب کچھ ہو گا جس کی تمہارے نفس خواہش کرتے ہیں اور اس میں تمہارے لئے وہ سب کچھ ہو گا جو تم طلب کرتے ہو۔یہ بخشنے والے اور بے انتہار حم کرنے والے خدا کی طرف سے بطور مہمانی کے ہو گا۔یہ ترجمہ ہے ان آیات کا جو میں نے تلاوت کی ہیں۔ہر ہفتہ میں ہزاروں خطوط مجھے آتے ہیں جنہیں میں پڑھتا ہوں، جن میں مختلف قسم کے خطوط ہوتے ہیں۔کوئی بیماری کی وجہ سے دعا کے لئے لکھ رہا ہوتا ہے۔عزیزوں کے لئے لکھ رہا ہو تا ہے۔شادیوں کی خوشیوں میں شامل کر رہا ہوتا ہے۔رشتوں کی تلاش میں پریشانی کا اظہار کر رہا ہوتا ہے۔کاروباروں اور ملازمتوں کے بابرکت ہونے اور دوسرے مسائل کا ذکر کر رہا ہوتا ہے۔امتحانوں میں کامیابیوں کے لئے طلباء لکھ رہے ہوتے ہیں، ان کے والدین لکھ رہے ہوتے ہیں۔غرض کہ اس طرح کے اور اس کے علاوہ بھی مختلف نوع کے خطوط ہوتے ہیں۔لیکن گزشتہ ہفتے میں ہزاروں خطوط معمول کے ہزاروں خطوط سے بڑھ کر مجھے ملے اور تمام کا مضمون ایک محور پر مرکوز تھا، جس میں لاہور کے شہداء کی عظیم شہادت پر جذبات کا اظہار کیا گیا تھا، اپنے احساسات کا اظہار لوگوں نے کیا تھا۔غم تھا، دکھ تھا، غصہ تھا، لیکن فوراہی اگلے فقرہ میں وہ غصہ صبر اور دعا میں ڈھل جاتا تھا۔سب لوگ جو تھے وہ