خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 242 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 242

خطبات مسرور جلد ہشتم 242 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 مئی 2010 علیہ السلام نے کیا ہے اور کیا ان کو کرنا چاہئے؟ اور کیا ان کے عمل ہیں؟ آپ نے یہ لکھ کر صرف علماء پر اعتراض نہیں کیا۔بلکہ جیسا کہ ہم تو جانتے ہیں کہ 80 سے زائد کتابیں اسلام کے دفاع میں لکھیں۔علماء کو بھی حق کا راستہ دکھانے کی کوشش کی۔ہر مذہب کو مقابلے پر بلایا اور اسلام کی بالا دستی ثابت کی۔آنحضرت صلی علیم کے مقام کو اپنے ماننے والوں کے دلوں میں قائم فرمایا۔اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے قیام کے لئے اپنی جان ہلکان کی۔اپنے پیچھے ایسی جماعت چھوڑی جو اس مشن کو آگے بڑھارہی ہے۔آپ کے کارناموں کا ہر انصاف پسند نے اقرار کیا۔مسیح موعود کی وفات پر غیروں کا اظہار خراج تحسین آپ کی وفات پر جو غیروں نے اظہار کیا اس میں سے ایک نمونہ میں پیش کرتا ہوں۔مولانا ابوالکلام آزاد ایک مسلمان لیڈر تھے، احمدی نہیں تھے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر لکھا کہ ”مرزا صاحب کی اس رِفعت نے ان کے بعض دعاوی اور بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو ہاں تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرا دیا ہے کہ ان کا ایک بڑا شخص ان سے جد اہو گیا۔اور اس کے ساتھ مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا جو اس کی ذات سے وابستہ تھی، خاتمہ ہو گیا۔ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جاوے تا کہ وہ مہتم بالشان تحریک جس نے ہمارے دشمنوں کو عرصہ تک پست اور پامال بنائے رکھا آئندہ بھی جاری رہے“۔یہ تو ان کا خیال تھا بہر حال، ان کو یہ نہیں پتہ کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی جماعت تھی اور آپ کا جو خزانہ تھا، جو ہمیں دے گئے ہیں وہ آج تک مخالفین کے منہ بند کرتا چلا جارہا ہے۔پھر یہ آگے لکھتے ہیں: ”مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر ان سے ظہور میں آیا، قبولِ عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔اس لٹریچر کی قدر و عظمت آج جب کہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے، ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے۔اس لئے کہ وہ وقت ہر گز لوح قلب سے نَسيَّا مَنْسِيًّا نہیں ہو سکتا جبکہ اسلام مخالفین کی یورشوں میں گھر چکا تھا اور مسلمان جو حافظ حقیقی کی طرف سے عالم اسباب ووسائط میں حفاظت کا واسطہ ہو کر اس کی حفاظت پر مامور تھے ، اپنے قصوروں کی پاداش میں پڑے سسک رہے تھے “۔( مسلمانوں ہی کا کام تھا جو اسلام کی حفاظت کرنا۔وہ تو اپنے قصوروں کی وجہ سے صرف سسک رہے تھے۔کچھ کر نہیں سکتے تھے کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلام کے دفاع کا کام کیا۔)۔پھر لکھتے ہیں: اور اسلام کے لئے کچھ نہ کرتے تھے۔یانہ کر سکتے تھے۔ایک طرف حملوں کے امتداد کی یہ حالت تھی کہ ساری مسیحی دنیا اسلام کی شمع عرفان حقیقی کو سر راہ منزل مزاحمت سمجھ کے مٹا دینا چاہتی تھی“۔اسلام کی جو عرفان کی