خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 243 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 243

خطبات مسرور جلد ہشتم 243 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 مئی 2010 روشنی تھی اس عیسائی دنیا کو اپنے لیے اپنے راستے میں اپنی ترقی کے راستے میں روک سمجھ کر مٹانے کے درپے تھی۔”اور عقل و دولت کی زبر دست طاقتیں اس حملہ آور کی پشت گری کے لئے ٹوٹی پڑی تھیں“۔ساری عقلیں ” و بھی ان کے ساتھ تھیں ، دولتیں بھی ان عیسائی مشنوں کے ساتھ تھیں۔اور دوسری طرف ضعف مدافعت کا یہ عالم تھا کہ تو پوں کے مقابلے پر تیر بھی نہ تھے “۔وہ تو تو ہیں لے کر آئے ہوئے تھے۔یعنی اپنی دولت اور کتابوں اور دلیلوں کے ساتھ اور مسلمانوں کی حالت یہ تھی اب مسلمانوں کے پاس ایک تیر بھی نہیں تھا ” اور حملہ آور اور مدافعت دونوں کا قطعی وجود ہی نہ تھا“۔نہ حملے کرنے کی طاقت تھی، نہ دفاع کرنے کی طاقت تھی۔آگے کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی طرف سے وہ مدافعت شروع ہوئی جس کا ایک حصہ مرزا صاحب کو حاصل ہوا۔( تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 560-561) ایک حصہ کیا۔یہ سارے کا سارا جو کام ہے، مرزا صاحب کو ہی حاصل ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہی حاصل ہو ا۔مسلمانوں ہی نے نہیں، جو مسلمان تھے حقیقت پسند مسلمان تھے ، جیسا کہ ایک میں نے بیان کیا ہے ، انہوں نے ہی تعریف نہیں کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کام کی بلکہ غیر مسلم بھی آپ کے کام سے خوفزدہ تھے۔آپ اسلام کے ایک عظیم جرنیل تھے۔آپ کی تعلیم نے عیسائیت کی ترقی کی راہیں روکیں۔اور عیسائیوں کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑا کہ ان کی ترقی نہ صرف ہندوستان میں، بلکہ افریقہ میں بھی جماعت احمدیہ نے جو اسلام کے پیغام کا طریق اختیار کیا ہے اس کی وجہ سے رک گئی ہے۔اس کے دو نمونے پیش کر تا ہوں۔امریکی مشن کے پادری مسٹر ویورڈ گار نے لکھا ہے کہ: جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے جو اسلامی کمک یہاں پہنچی ہے (سیر الیون میں) اس نے لکھا ہے اس سے رو کو پر کے نواحی علاقے (روکو پر ایک سیر الیون کا شہر ہے ) میں اس جماعت کی مضبوط مورچہ بندی ہو گئی ہے اور اب عیسائیت کے مقابلہ میں تمام تر کامیابی اسلام کو نصیب ہو رہی ہے۔مثال کے طور پر اس مقابلہ کی صف آرائی کے نتیجہ میں تھوڑا عرصہ ہوا، شہر کا مبیا میں امریکن عیسائی مشن بند کرنا پڑا۔اخبار ویسٹ افریقن فروری 1947ء) (ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 450 جدید ایڈیشن) پھر ایک اور عیسائی مصنف ہیں ایس جی ولیم سن، غانا یونیورسٹی کے پروفیسر اپنی کتاب کرائسٹ اور محمد میں لکھتے ہیں کہ ”غانا کے شمالی حصے میں رومن کیتھولک کے سوا عیسائیت کے تمام اہم فرقوں نے محمدؐ کے پیروؤں کے لئے میدان خالی کر دیا ہے۔انشائی اور گولڈ کوسٹ کے جنوبی حصوں میں عیسائیت آج کل ترقی کر رہی ہے۔لیکن جنوب کے بعض حصوں میں خصوصاً ساحل کے ساتھ ساتھ احمد یہ جماعت کو عظیم الشان فتوحات حاصل ہو رہی ہیں۔یہ خوش کن توقع کہ گولڈ کوسٹ جلد ہی عیسائی بن جائے گا اب معرض خطر میں ہے۔(خطرے میں آگیا ہے)۔اور یہ خطرہ ہمارے خیال کی وسعتوں سے کہیں زیادہ عظیم ہے۔کیونکہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک خاصی تعد اد احمدیت کی