خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 241 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 241

خطبات مسرور جلد ہشتم 241 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 مئی 2010 آرزوؤں کو جانتے ہیں اور معانی کو نہیں ڈھونڈھتے اور نہ غور کرتے ہیں۔سچی بات کو سن کر پھر سر کشی کرتے ہیں گویا وہ موت کی طرف بلائے جاتے ہیں۔اور دیکھتے ہیں کہ دنیا سخت بے وفا ہے اور زمانہ منہ کے بل گرنے والا ہے پھر دنیا پر عاشقوں کی طرح گرتے ہیں۔اور بعض ان کے کام وہ ہیں جو گھر میں کرتے ہیں اور بعض وہ کام ہیں جو دکھلانے کے لئے ہیں”۔یعنی گھر میں کچھ اور ہیں باہر کچھ اور ہیں۔حضرت مسیح موعود نے گھروں کی ایک مثال دی ہوئی ہے۔ایک دفعہ ایک مولوی صاحب بڑے وعظ کر رہے تھے اور اسلام کی خاطر مالی قربانی کی تحریک کر رہے تھے اور ان کی بیوی بھی یہ سن رہی تھی اور اس پر جوش تقریر کو سن کر بڑی متاثر ہوئی اور گھر آکر اپنے سونے کے کڑے اور زیور اتار کر مولوی صاحب کو دیا کہ یہ میری طرف سے اس تحریک کے لئے ہیں۔مولوی نے کہا یہ کیا؟ اس نے کہا کہ آپ نے اتنی شدت سے تحریک کی تھی کہ میں بھی جذباتی ہو گئی تھی اور میں یہ پیش کر رہی ہوں۔تو مولوی صاحب کا جواب تھا یہ تمہارے لئے تھوڑا تھا یہ تو دوسروں کے لئے تھا۔تو یہ ان کے حال ہیں۔فرمایا: ”سو ریا کاروں پر واویلا ہے۔انہوں نے خوب دیکھ لیا کہ کافروں کا فساد کیسا بڑھ گیا۔اور وہ خوب جانتے ہیں کہ دین شریروں کا نشانہ بن گیا“۔یہ سب جو غیروں کی بھی جرآت بڑھتی جا رہی ہے، یورپ میں بھی اور بعض جگہ جو ویب سائٹس پر اخباروں میں جو پر آنحضرت صلی ا یکم کے خلاف مواد دیا جاتا ہے ، یا اب پاکستان میں facebook بند کر دی گئی ہے۔facebook آنحضرت صلی اللی یکم کے خلاف کچھ بیہودہ چیزیں دی گئی ہیں۔تو یہ صرف اس لئے ہے کہ ان سب کو پتہ ہے کہ مسلمان ایک نہیں ہیں اور جو چاہے کر لو یہ کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے اور بڑی جلدی پکنے والے ہیں۔اور زمانے کا امام جو مردِ میدان بن کر آیا ہے جو اسلام کے دفاع کے لئے آیا ہے اس کی مدد کرنا نہیں چاہتے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں کہ کافروں کا فساد کیسا بڑھ گیا ہے۔یہ خوب دیکھتے ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ “دین شریروں کا نشانہ بن گیا۔اور حق بدکاروں کے پیروں کے نیچے کچلا گیا۔پھر غافلوں کی طرح پڑے سوتے ہیں اور دین کی ہمدردی کے لئے کچھ بھی توجہ نہیں کرتے۔ہر یک دکھ دینے والی آواز کو سنتے ہیں۔پھر کافروں، ناپاکوں کی باتوں کی کچھ بھی پرواہ نہیں رکھتے۔اور ایک ذی غیرت انسان کی طرح نہیں اٹھتے بلکہ حمل دار عورتوں کی طرح اپنے تئیں بو جھل بنا لیتے ہیں حالانکہ وہ حمل دار نہیں۔اور جب کسی نیکی کی طرف اٹھتے ہیں تو ست اور ڈھیلے اٹھتے ہیں۔اور تو محنت کشوں کے لچھن ان میں نہیں پائے گا۔اور جب کوئی نفسانی حظ دیکھیں تو تو دیکھے گا کہ اس کی طرف دوڑتے بلکہ اچھلتے چلے جاتے ہیں“۔( انسانی خواہشات کی طرف اچھلتے ہیں)۔فرمایا: ”یہ تو ہمارے بزرگ علماء کا حال ہے۔مگر کافر تو اسلام کے مٹانے کے لئے سخت کوشش کر رہے ہیں اور ان کے تمام مشورے اسی مقصد کے لئے ہیں اور باز نہیں آتے “۔(منن الرحمن روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 177 تا 179) علماء کی حالت کا نقشہ کھینچ کر اور اسلام کی حالت کا بیان کر کے یہ درد کا اظہار ہے جو حضرت مسیح موعود