خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 226
خطبات مسرور جلد ہشتم 226 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 مئی 2010 پھر جب فتح مکہ ہوئی تو اس تسبیح اور شکر گزاری کا ایک اور انداز دیکھیں کہ اونٹنی پر بیٹھے ہیں۔سر جھک کر پالان سے چھور ہا تھا اور سجدہ شکر بجالاتے ہوئے یہ دعا آپ پڑھ رہے تھے کہ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللهُمَّ اغْفِرْ لِی۔کہ اے اللہ ! تو پاک ہے اپنی حمد اور تعریف کے ساتھ۔اے اللہ مجھے بخش دے۔یہ معیار حاصل کرنے کے بعد جب خدا تعالیٰ نے آپ کی امت کے افراد سے اپنی محبت کو بھی آنحضرت صلی للی کم کی پیروی کے ساتھ مشروط کیا ہے۔تو پھر بھی آپ اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کے ساتھ ، شکر گزاری کے ساتھ اپنی مغفرت طلب فرمارہے ہیں۔پس یہ آپ کے نمونے ہیں۔انفرادی طور پر بھی تسبیح و تحمید کے طریق سکھا رہے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور تقدیس کا اظہار حقیقی رنگ میں کرنے کا پتہ چلے۔آپ کے لئے امت کے درود اور سلامتی بھیجنے پر تسبیح اور تحمید اور شکر گزاری کا وہ اظہار فرمایا کہ جس کی مثال نہیں مل سکتی۔ایک شکر گزاری اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر درود بھیجنے کو اس قدر اہمیت دی ہے کہ یہ امت کے لئے بخشش کا سامان ہو گیا ہے۔اور ایک اللہ تعالیٰ کی تسبیح اس لئے کہ کس کس طرح اللہ تعالیٰ میری امت کو بخشنے کے سامان فرما رہا ہے۔اور کیا مقام اللہ تعالیٰ مجھے عطا فرما رہا ہے ؟ پھر جب اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کی صورت میں کامیابی عطا فرمائی تو تسبیح و تحمید اور شکر گزاری کا وہ اعلیٰ نمونہ ہے اور عاجزی کا وہ اعلیٰ نمونہ ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔یعنی یہ سب تسبیح کے نمونے دکھا کر اور سکھا کر امت کو اس طرف متوجہ فرمایا ہے کہ تمہاری بقا اور تمہاری کامیابی اور تمہاری ترقی اور تمہاری فتح بھی اسی میں ہے کہ دنیاوی اسباب پر بھروسہ نہ کرو بلکہ رب اعلیٰ کی تسبیح اور تحمید کر وجو رب العالمین ہے۔یاد رکھو بے شک اپنے اپنے رنگ میں بعض اور بھی رب ہیں جن سے تمہیں واسطہ پڑتا رہتا ہے۔شروع میں ، ابتدا میں انسان جب بچہ ہوتا ہے ، بچے کی پرورش میں بھی اس کے ماں باپ حصہ لیتے ہیں۔اس لحاظ سے وہ بھی رب کہلاتے ہیں۔پھر اس کے بعد بڑا ہو تا ہے اور دنیاوی کاموں میں پڑتا ہے۔افسران ہیں، بادشاہ ہیں، ملکی سر براہ ہیں جو ایک طرح سے پرورش میں حصہ لیتے ہیں۔لیکن ان سب کی ربوبیت جو ہے وہ نقائص سے پر ہے، کامل نہیں ہے۔ماں ہے جو سب سے زیادہ خالص ہو کر بچے کی پرورش کر رہی ہوتی ہے لیکن اس میں بھی کاملیت نہیں ہے ، اس لئے اس کی پرورش میں کمیاں رہ جاتی ہیں۔کبھی بچے کو زیادہ کھلا دیا توہ بیمار ہو گیا۔کبھی خوراک کا خیال نہ رکھا تو کمزور ہو گیا۔کبھی کسی اور طرف توجہ ہو گئی تو بچے کی نگہداشت صحیح طرح نہ ہو سکی۔کبھی کسی چیز میں کمی رہ جاتی ہے ، کبھی کسی چیز میں۔اسی طرح تمام دنیاوی افسران ہیں یا ملازمین کے مالک ہیں ، وہ سب کمزور ہیں۔اور پھر وہ لوگ یہ تو چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے لیکن تعریف وہ کروانا چاہتے ہیں جس پر وہ کبھی پورا نہیں اترتے اور یوں اکثر جھوٹی تعریفیں اور خوشامدیں کرنی پڑتی ہیں۔جس سے انسان کی طبیعت میں جھوٹی خوشامدیں کر کے ، تعریفیں کر کے بعض دفعہ منافقت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔لیکن رب اعلیٰ وہ ہے جو ہر عیب سے پاک ہے۔جس کی تعریف حقیقی ہے۔جس نے رحمانیت کے