خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 225 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 225

خطبات مسرور جلد ہشتم 225 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 مئی 2010 کی خوراک کیا تھی۔بعض وقت تو فاقے بھی ہوتے تھے اور روکھی سوکھی روٹی ہوتی تھی۔لیکن اس کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر فرماتے تھے۔اور تسبیح سے اپنی زبان کو تر رکھتے تھے۔یہاں یہ بھی بتادوں کہ روایت میں آتا ہے کہ سبح اسْمَ رَبِّكَ الأغلى ( الا علی : 2) کی آیت اترنے سے پہلے آنحضرت صلی علیہ یکم خود بھی یہ دعا کرتے اور اپنے صحابہ کو بھی آپ نے فرمایا ہوا تھا کہ سجدے میں یہ دعا پڑھا کرو کہ اللهُم لَكَ سَجَدتُ۔لیکن اس آیت کے بعد پھر آپ نے سُبْحَانَ رَبِّي الا علی کی دعا سکھائی۔اسی طرح فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیم کی آیت جب نازل ہوئی ہے تو پھر آپ نے رکوع میں بھی سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيم کی دعا سکھاتی ہے۔(ابو داؤد کتاب الصلوۃ باب ما يقول الرجل في ركوعه و سجودہ حدیث نمبر 871،869 ) آپ نے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے کے طریق کس طرح سکھائے ؟ کس طرح ہر وقت آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور برتری کا خیال رہتا تھا اور آپ راہنمائی فرماتے تھے ؟ اس بارے میں ایک روایت میں حضرت جویریہ بیان کرتی ہیں کہ صبح کی نماز کے وقت آنحضرت صلی علیہ تم میرے پاس سے گئے۔اس وقت میں مصلے پر بیٹھی تھی اور دن چڑھے جب آپ واپس آئے تو میں اس وقت بھی مصلے پر بیٹھی تھی اور ذکر کر رہی تھی اور تسبیح کر رہی تھی۔تو آپ نے پوچھا تم صبح سے اس حال میں یہاں بیٹھی کیا کر رہی ہو ؟ میں نے عرض کی کہ میں تسبیح کر رہی ہوں۔اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہی ہوں۔آپ نے فرمایا اس کے بعد جب سے میں یہاں سے گیا ہوں اور اب آیا ہوں میں نے صرف چار کلمات تین دفعہ دہرائے ہیں۔اگر ان کلمات کا موازنہ میں تمہارے اس سارے وقت کے ذکر اور تسبیح سے کروں تو میرے کلمے جو ہیں وہ بھاری ہیں۔جو یہ ہیں۔کہ سُبحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَاءَ نَفْسِهِ، سُبْحَانَ اللهِ زِنَةَ عَرْشِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كِلِمَاتِهِ مسلم کتاب الذکر والدعاء التوبۃ والاستغفار باب التسبیح اول النهار و عند النوم: 6807-6808) اللہ پاک ہے اس قدر جتنی اس کی مخلوق ہے۔اللہ پاک ہے جس قدر اس کی ذات یہ بات پسند کرتی ہے۔اللہ پاک ہے جس قدر اس کے عرش کا وزن ہے یعنی بے انتہا پاک ہے اور اللہ پاک ہے جس قدر اس کے کلمات کی سیاہی ہے۔ایک تو اس سے آنحضرت صلی الم کی قوت قدسی سے آپ کی ازواج کی تسبیح و تحمید اور ذکر سے رغبت اور اس کے لئے کوشش کا پتا چلتا ہے کہ کس قدر انہماک سے اور کتنی دیر تک یہ دعائیں اور ذکر فرمایا کرتی تھیں۔پھر آنحضرت صلی علیم کی اس تسبیح کا اندازہ ہوتا ہے۔آپ نے جس غور اور جس گہرائی سے یہ تسبیح کی اس کا اندازہ لگائیں کہ ایک لمبے عرصے میں جو کم از کم گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹے پر تو محیط ہو گا، اس میں آپ نے صرف تین مرتبہ یہ الفاظ دوہرائے۔یہ تو آپ کا ہی مقام تھا۔لیکن توجہ دلائی کہ تسبیح ان جامع الفاظ میں کرو اور ساتھ ساتھ غور کرو۔اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ تسبیح کرو۔