خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 227 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 227

خطبات مسرور جلد ہشتم 227 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 مئی 2010 جلوے دکھاتے ہوئے بھی پرورش کے انتظام کئے ہیں۔اور جو رحیمیت کے جلوے دکھاتے ہوئے بھی اپنے بندوں کے لئے بے انتہا فضل نازل فرماتا ہے۔دعاؤں کو سنتا ہے ، وہ مجیب بھی ہے۔غرض کہ اس کے بے انتہا اور بھی صفاتی نام ہیں جس کے مطابق وہ اپنے بندوں سے سلوک بھی کرتا رہتا ہے۔پس ایک مومن کو چاہئے کہ سَبحِ اسْمَ رَبِّكَ الأغلى (الا علی :2) پر عمل کرتے ہوئے اس کامل صفات والے اعلیٰ رب کی تسبیح کرتا رہے اور اس کی خیر کی تمام صفات سے حصہ لینے کی کوشش کرے اور اس کی ناراضگی اور پکڑ سے بچنے کی کوشش کرے۔ہر خیر کے ساتھ شر بھی ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے تمام قسم کے شرور سے بچنے کی دعا کرنی چاہئے اور حقیقی تسبیح کرنے والے کو اللہ تعالیٰ یقیناً اپنی پناہ میں لے لیتا ہے۔نمازوں کی ادائیگی قرآن کریم میں تسبیح کے ذکر میں جو بیان ہوا ہے اس میں نمازوں کو بھی تسبیح کے ساتھ ملایا گیا ہے۔یعنی نمازیں بھی ایک قسم کی تسبیح ہیں۔پس ان کی پابندی کرنا اور باقاعدگی سے ادا کرنا یہ بھی ضروری ہے۔سبح اسم ريك الأغلیٰ کا صحیح ادراک حاصل ہو گا۔پھر جیسا کہ میں نے بیان کیا کہ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اپنے رب کے نام کو دنیا میں بلند کرنا۔اپنے رب کے نام کو دنیا میں بلند کرنا، یہ بھی حکم ہے۔اس بارے میں جب سب سے اول آنحضرت صلی اللہ یکم کی ذات کو ہم دیکھتے ہیں تو اس کے بھی اعلیٰ ترین نمونے آپ نے ہی قائم فرمائے۔آپ نے دعوت الی اللہ کا حق قائم فرما دیا۔جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارہ میں فرمایا کہ داعيا إلى الله بِاِذْنِهِ (الاحزاب : 47) کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ کو اللہ تعالی کی طرف بلانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے۔اور جب آپ کو فرمایا کہ یايُّهَا الرَّسُولُ بَلِغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ (المائدة: 68) کہ اے رسول! تیری طرف تیرے رب کی طرف سے جو کلام اتارا گیا ہے اسے لوگوں تک پہنچا تو اس کا بھی آپ نے حق ادا کر دیا۔کیونکہ اس کے بعد رب اعلیٰ کے نام کی سربلندی جو پہلے ہی آپ کا مقصود تھی اس میں اور زیادہ اضافہ ہو گیا۔نرمی سے ، حکمت سے ، احسان سے ، احسان کرتے ہوئے اور صبر دکھاتے ہوئے آپ نے ہر حالت میں تبلیغ کے کام کے حق کو ادا کرنے کی کوشش فرمائی۔ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہوئے اس حق کو ادا کیا۔مشکلات بھی آئیں تو تب بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہوئے آپ کے قدم آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔کوئی خوف، کوئی ڈر آپ کو اس کام سے روک نہیں سکا۔آپ کی قوت قدسی نے یہی روح صحابہ میں بھر دی تھی۔اللہ تعالیٰ کے نام کی سر بلندی کے لئے وہ بھی قربانیاں دیتے چلے گئے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الَّذِی خَلَقَ فَسَوَی الا علی : 3) یعنی جس نے پیدا کیا پھر ٹھیک ٹھاک کیا۔اس کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس حالت میں پیدا کیا ہے کہ اس کے اندر تمام ضروری طاقتیں رکھی ہیں اور ترقی