خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 224
خطبات مسرور جلد ہشتم 224 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 مئی 2010 یقین رکھتا ہے کہ آنحضرت صلی علی رام اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے کامل نمونہ بنایا اور آپ پر شریعت کامل ہوئی اور آپ کے طریق پر چلنا ہم پر فرض قرار دیا۔پس ہر شخص جو آپ کی طرف حقیقی رنگ میں منسوب ہوتا ہے اور ہونا چاہتا ہے ، اس کا یہ فرض ہے کہ آپ کے اسوہ پر چلنے کی کوشش کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب : 22) - یقیناً تمہارے لئے اللہ کے رسول میں ایک کامل نمونہ ہے جس کی پیروی کرنی چاہئے۔اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرنے میں آپ کا کیا نمونہ تھا؟ آپ کے صبح شام، رات دن اللہ تعالیٰ کے ذکر سے پر گزرتے تھے۔پھر بھی آپ فرماتے ہیں کہ اے رب ! مجھے اپنا ذ کر کرنے والا اور اپنا شکر کرنے والا بنا۔(سنن ابن ماجہ کتاب الدعاء باب دعاء رسول اللہ صلی الله علم حدیث نمبر 3830) رکوع اور سجدے میں آپ اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید فرماتے تھے۔اور آپ کی تسبیح و تحمید اور گریہ وزاری ایک عجیب رنگ رکھتی تھی۔رکوع میں جب سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیم سے اپنے عظیم رب جو رب العالمین ہے، اس کی بزرگی اور برتری کا ذکر فرماتے ہیں تو کھڑے ہو کر سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَہ کہہ کر پھر اللہ تعالیٰ کی بے شمار حمد کی طرف توجہ فرماتے ہیں۔آپ کے رکوع اور سجود اور قیام اور نماز کی ہر حرکت کے بارہ میں ایک دفعہ پوچھنے پر حضرت عائشہ نے فرمایا تھا کہ اس کی خوبصورتی اور لمبائی نہ پوچھو۔( بخاری کتاب التجد باب قیام النبی صلی الله تم بالليل في رمضان و غیر ہ حدیث نمبر 1147) آنحضرت مال الم کا جذ بہ مشکر سجدوں کی لمبائی کے بارہ میں ایک روایت میں یہ ذکر ملتا ہے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی الیہ کی ایک دن مسجد میں تشریف لائے اور قبلہ رو ہو کر سجدے میں چلے گئے۔بہت لمباسجدہ کیا۔اتنا لمبا کہ میں آپ کو دیکھ کر پریشان ہو گیا۔بلکہ یہاں تک میری پریشانی بڑھی کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض کرلی ہے۔اس پریشانی کی حالت میں میں آپ کے قریب پہنچا تو آپ سجدہ سے اٹھ بیٹھے۔آپ نے فرمایا کہ کون ہے ؟۔میں نے عرض کی یارسول اللہ ! میں عبد الرحمن ہوں۔پھر میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ کا یہ سجدہ اتنازیادہ لمبا ہو گیا تھا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کی روح تو قبض نہیں ہو گئی۔آپ نے فرمایا کہ میرے پاس جبریل آئے تھے اور یہ خوشخبری دی تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے حق میں فرماتا ہے کہ جو آپ پر درود بھیجے گا اس پر میں رحمتیں نازل کروں گا۔اور جو سلامتی بھیجے گا اس پر میں سلامتی نازل کروں گا۔اس بات پر میں سجدہ شکر بجالا رہا تھا اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کر رہا تھا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 512-513 حدیث نمبر : 1664 مسند عبد الرحمن بن عوف مطبوعہ بیروت ایڈیشن 1998ء ) یہی نہیں کہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا یہ اتنا بڑا انعام تھا اس کی وجہ سے شکر بجالا رہے ہیں، بلکہ ہر چھوٹی سے چھوٹی اللہ تعالیٰ کی جو نعمت تھی، اس پر بھی آپ اللہ تعالیٰ کی بے انتہا تسبیح و حمد و شکر گزاری فرمایا کرتے تھے۔آپ