خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 179 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 179

خطبات مسرور جلد ہشتم 179 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اپریل 2010 اسلام کی حقیقی تعلیم سے روشناس کروانے کی توفیق ملی تو بہت سے ہمسایوں بلکہ میئر سمیت کئی کو نسلروں نے بھی ہمارے حق میں آواز اٹھائی۔پرسوں بھی جو علاقے کے میئر یہاں ریسیپشن میں تشریف لائے ہوئے تھے باتوں میں کہہ رہے تھے کہ یہاں جماعت کا مرکز بننے میں کوئی روک نہیں ہونی چاہئے انشاء اللہ۔کیونکہ اس جگہ کے اردگرد ہماری جماعت کے اکثر ہمسایوں کو کوئی اعتراض نہیں ہے اور وہ ہمیں امن پسند سمجھتے ہیں۔بہر حال یہ سب باتیں یہاں رہنے والے احمدیوں پر بہت بڑی ذمہ داری ڈالتی ہیں۔یہاں سے میری مراد اس ملک میں رہنے والے ہر احمدی سے ہے۔چاہے وہ ملک کے کسی بھی حصہ میں رہتا ہو۔ہر احمدی کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ مسیح محمدی کو ماننے والا اور اس کے غلاموں میں شامل ہے۔آپ اُس ملک میں رہ رہے ہیں جس کے ایک حصہ میں عیسائیت کی خلافت کا مرکز ہے۔چاہے دنیا داری کی طرز ہی باقی رہ گئی ہے لیکن بہر حال انہوں نے ابھی تک پاپائیت کے نظام اور استحکام کو قائم رکھنے کی کوشش کی ہوئی ہے اور پوپ کا احترام بھی ہے۔یورپ میں بہت بڑی اکثریت پوپ کو ماننے والے کیتھولک عیسائیوں کی ہے۔بہر حال اب اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق مسیح محمدی نے تمام دنیا میں اسلام کا جھنڈا لہرانے اور سعید روحوں کو آنحضرت صلی الم کے قدموں میں لا کر ڈالنے کا کام کرنا ہے اور یہ ہر احمدی کی ذمہ داری ہے۔فی الحال تو یہاں ہمارے کوئی باقاعدہ مبلغ بھی نہیں ہیں۔سوئٹزر لینڈ سے ہمارے مبلغ یہاں آتے ہیں۔کوشش ہو رہی ہے ، خدا تعالیٰ کرے کہ یہاں مستقل مبلغ کے آنے کا انتظام بھی جلدی ہو جائے۔اس لئے بھی ہر احمدی کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنی کوششوں اور اپنی حالتوں میں ایسی تبدیلی پیدا کریں کہ انتظامیہ کو خود بخود ہی یہ احساس ہو کہ جس جماعت کے عام افراد بھی اس طرح اعلیٰ اخلاق اور روحانی معیار کے ہیں اور قانون کے پابند ہیں اس کے مشنری کا بھی یقیناً اعلیٰ معیار ہو گا۔اس لئے اجازت ملنے میں کوئی روک نہیں ہونی چاہئے۔پس ہر احمدی کو احمدیت کا سفیر بننے کی ضرورت ہے تاکہ جماعت کا یہاں مضبوط بنیادوں پر قیام اور استحکام ہو جائے۔لیکن یہ بھی واضح ہو کہ مبلغ کے آنے کے بعد آپ کی ذمہ داریاں کم نہیں ہو جائیں گی بلکہ پہلے سے بڑھ کر اپنے روحانی اور اخلاقی معیاروں کو بلند کرنے کی ضرورت ہو گی تاکہ صرف ایک دو نہیں بلکہ پورے ملک میں ہمارے مبلغین اور مساجد کا جال بچھ جائے۔جو ملک آج مسیح موسوی کی خلافت کا مرکز ہے اس میں مسیح محمدی کے ماننے والوں کی کثرت ہو جائے۔اور یہ کوئی معمولی کام نہیں ہے۔یہ بہت بڑا کام ہے۔اگر آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے عہد بیعت کا پاس کرنے والے رہیں گے اور خلافت احمدیہ سے وفا کا تعلق رکھیں گے تو آج نہیں تو کل، اور کل نہیں تو پرسوں اس مقصد کو حاصل کرنے والے بن جائیں گے۔آپ نہیں تو آپ کی نسلیں ضرور یہ نظارے دیکھیں گی۔انشاء اللہ۔عیسائیت تو کئی صدیوں کی سختیوں کے بعد جو موقد عیسائیوں کو برداشت کرنی پڑیں، یہاں پھیلی اور وہ توحید کی بجائے