خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 178
خطبات مسرور جلد ہشتم 178 16 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اپریل 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 اپریل 2010ء بمطابق 16 شہادت 1389 ہجری شمسی بمقام بیت التوحید۔سان پیٹرو۔اٹلی (Italy) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے اٹلی کے اس شہر میں جس کا نام ”سان پیٹرو ہے“ جو ”بولون “ Bologna کے علاقے کا ایک شہر یا قصبہ ہے، سے خطبہ دینے کی توفیق مل رہی ہے اور دنیا میں اس ملک سے پہلی دفعہ لائیو خطبہ بھی نشر ہو رہا ہے۔ایک لمبے عرصے تک جماعت کے افراد، کچھ حد تک افراد جماعت کی تعداد ہونے کے باوجو دیا جماعت کے قیام کے باوجود یہاں کی جماعت کے پاس کوئی جماعتی جگہ یا سینٹر نہیں تھا۔تقریباً دو سال پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ جگہ جماعت کو خریدنے کی توفیق عطا فرمائی۔اللہ تعالیٰ اب آپ کو یہاں مسجد بنانے کی بھی توفیق عطا فرمائے اور راستے میں جو بعض روکیں ہیں، وہ دور فرمائے۔علاقے کے لوگوں کی طرف سے اسلام مخالف مہم کی وجہ سے یا بعض مسلمانوں ( مسلمان گروپوں) کی ایسی حرکات کی وجہ سے جنہوں نے اسلام کو بدنام کیا ہوا ہے، جن لوگوں کے دل اسلام کی مخالفت سے بھرے ہوئے ہیں، جو اس تلاش میں ہوتے ہیں کہ کوئی موقعہ ملے تو اسلام کو اور مسلمانوں کو بد نام کرنے کی کوشش کی جائے انہیں اس قسم کے مسلمان گروپوں کی وجہ سے اسلام کے خلاف باتیں کرنے اور ذراسی بات کا بتنگڑ بنا کر اسے ہوا دینے کا موقع مل جاتا ہے۔بہر حال دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اب یہ رو کیں دور فرمائے اور نہ صرف یہاں بلکہ روم میں بھی ہمیں مسجد اور مشن ہاؤس بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔باوجود اسلام مخالف مہمات کے یورپ کے مختلف ممالک اور مختلف شہروں میں اللہ تعالیٰ جماعت احمد یہ مسلمہ کو مساجد بنانے کی توفیق عطا فرما رہا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا ہی فضل ہے کہ وہ راستے کھول دیتا ہے۔بعض مشکلات بھی آتی ہیں، بعض جگہ پر جگہ دینے سے انکار بھی ہوئے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ پھر کوئی اور ایسی سبیل نکال دیتا ہے جو ہماری سوچ سے بھی بہتر ہوتی ہے۔پس یہ ہوا اللہ تعالیٰ نے چلائی ہے کہ جماعت احمدیہ کے پھیلنے اور حقیقی اسلام کا پیغام دنیا تک پہنچانے کے سامان بہم پہنچارہا ہے۔ہمارا اس میں کوئی کمال نہیں ہے۔نہ ہی ہماری کوئی محنت ہے۔جیسا کہ میں نے کہا، ہمارے یہاں اس سینٹر میں ہی آنے کی مخالفت بھی کی گئی۔پھر جب کو نسلرز کو، علاقے کے لوگوں کو جماعت اور