خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 180
180 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اپریل 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم تثلیث کے نظریے کو لے کر پھیلی۔لیکن انشاء اللہ تعالیٰ احمدیت یعنی حقیقی اسلام نے تثلیث کو پھر توحید میں بدل کر توحید کے قیام کے لئے کوشش کرنی ہے اور پھر توحید کے قیام اور آنحضرت صلی لی نام کے جھنڈے کو اس ملک میں لہراتے چلے جانے کی کوشش کرتے چلے جانا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ دنیا میں یہ پیغام پہنچانے کے لئے مسیح محمدی کے غلام قربانیاں دیتے چلے جائیں گے اور یہ قربانیاں اسی صورت میں ہو سکتی ہیں جب ہم تقویٰ پر قدم مارنے والے بنیں گے۔جب اپنے مقصد پیدائش کو سمجھنے والے بنیں گے۔جب اپنی حالتوں پر نظر رکھنے والے بنیں گے۔جب دین کو دنیا پر مقدم کریں گے۔جب آپس کے تعلقات محبت، پیار اور بھائی چارے کی مثال بن جائیں گے۔جب نظام جماعت سے پختہ تعلق جوڑیں گے۔جب خلافت احمدیہ سے وفا اور اطاعت کا تعلق رکھیں گے۔جب مسیح موعود سے کئے گئے عہد بیعت کو ہر وقت اپنے سامنے رکھیں گے۔جب اللہ اور رسول کی حکومت اپنے اوپر قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔پس جو پاکستانی قومیت رکھنے والے ہیں اور اپنے ملک کے حالات کی وجہ سے اس ملک میں آئے ہیں۔یہاں آپ کو مذہبی لحاظ سے ذہنی سکون بھی ہے اور اکثریت کے مالی حالات بھی اللہ تعالیٰ نے بہتر کئے ہیں تو جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو موقع دیا ہے تو اپنے خدا کا شکر گزار بندہ بنہیں۔اور اس شکر گزاری کا اظہار اس صورت میں ہو گا، جب ان باتوں پر جو ابھی میں نے بیان کی ہیں، نظر رکھتے ہوئے تقویٰ پر چلنے والے ہوں گے۔مجھے بتایا گیا ہے کہ یہاں پاکستانی احمدیوں کے بعد دوسری بڑی تعد اد افریقین احمدیوں کی ہے، اور ان میں بھی گھانین احمدیوں کی۔اور پھر مراکش اور الجزائر کے رہنے والے احمدی ہیں۔آپ لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے دنیاوی لحاظ سے بہتر حالت میں کیا ہے۔آپ کا بھی فرض ہے کہ اپنے عہد بیعت کو ہمیشہ سامنے رکھیں۔افریقن نژاد احمدیوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جنہیں خود یا ان کے بڑوں کو تثلیث کو چھوڑ کر اسلام قبول کرنے کی توفیق ملی۔اب آپ کا کام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر اس دین میں شامل ہونے کے بعد یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ عیسائیوں کو بہتر رنگ میں توحید کا پیغام پہنچائیں۔اور پھر یہ ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے جب آپ دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مالی لحاظ سے اس ملک میں آپ کو کشائش عطا فرمائی ہے۔اور اس طرح سے یہ ذمہ داری ان عرب ممالک کے جزائر اور مراکش کے رہنے والے احمدیوں کی بھی ہے کہ جس انعام کو خدا تعالیٰ نے آپ کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے جو روحانی مائدہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے آپ کو ملا ہے اس سے دوسروں کو بھی فیضیاب کرنے کے سامان کریں۔ایک حقیقی مسلمان کا آنحضرت صلی علیم کے فرمان کے تحت یہ کام ہے کہ جو اپنے لئے پسند کرتا ہے وہ اپنے بھائی کے لئے بھی پسند کرے۔( صحیح بخاری کتاب الایمان باب من الایمان ان یحب لاخيه ما يحب لنفسہ حدیث نمبر 13) پس اپنے ہم وطنوں، عزیزوں اور رشتے داروں کو آنحضرت صلی عملی کام کے عاشق صادق اور غلام صادق کا پیغام پہنچائیں۔تبھی آپ حقیقی احمدی ہونے کا حق ادا کر سکتے ہیں۔