خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 177
خطبات مسرور جلد ہشتم 177 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 اپریل 2010 پھر آپ یورپ وغیرہ میں تبلیغ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان ممالک میں جانا ایسے لوگوں کا کام ہے جو ان کی زبان سے بھی بخوبی واقف ہوں۔اور ان کے طرز بیان اور خیالات سے خوب آگاہ ہوں)۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 684 مطبوعہ ربوہ) یہاں رہنے والے جو ہیں وہی اس چیز سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے جو وقف نو کی سکیم کے تحت والدین کو اولاد وقف کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔اب اس نہج پر بچپن سے ہی ان کی تربیت کرنا بھی والدین کا کام ہے۔ایسی تربیت کریں کہ وہ جامعہ کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں۔یہاں کی زبان اور طرزِ زندگی سے بھی واقفیت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔جماعت کا تبلیغ کا کام کوئی چند سال کا یا دو چار ، دس سال کا کام نہیں ہے۔یہ تو ہمیشہ جاری رہنا ہے۔پس جہاں فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر تبلیغ کے پروگرام بنیں۔وہاں لمبے عرصہ پر حاوی اور گہری سوچ و بچار کے بعد وسیع پر وگرام بھی بنائیں۔تبھی ہم تبلیغ کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنے والے کہلا سکتے ہیں۔پس اس کے لئے ہمیں خالص ہو کر کوشش کرنے کی ضرورت ہو گی۔اپنی زندگیوں کو تقویٰ سے بھرنا ہو گا۔عہدیداروں کو صرف عہدوں سے غرض نہیں ہونی چاہئے بلکہ اس مقصد کی پہچان کرنی ہو گی جس کے لئے اللہ تعالیٰ ان کو خدمت کا موقع دے رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”اللہ کا خوف اسی میں ہے کہ انسان دیکھے کہ اس کا قول و فعل کہاں تک ایک دوسرے سے مطابقت رکھتا ہے“۔فرماتے ہیں : ”جو دل ناپاک ہے ، خواہ قول کتنا ہی پاک ہو ، وہ دل خدا کی نگاہ میں قیمت نہیں پاتا۔فرمایا : ” پس میری جماعت سمجھ لے کہ وہ میرے پاس آئے ہیں، اسی لئے کہ تخم ریزی کی جاوے جس سے وہ پھلدار درخت ہو جائے۔پس ہر ایک اپنے اندر غور کرے کہ اس کا اندرونہ کیسا ہے ؟ اور اس کی باطنی حالت (ملفوظات جلد اول صفحہ 8 مطبوعہ ربوہ) کیسی ہے ؟“ اب یہ جو فرمایا کہ تخم ریزی کی جائے تو تخم ( بیج) تو اسی لئے لگایا جاتا ہے کہ اس کو پھل لگیں۔ہر احمدی کو پھل کی دوصورتیں ہیں۔ایک اپنی حالتوں کو بدلنے کے لئے، ایک اپنی نسلوں کو احمدیت پر قائم رکھنے اور تقویٰ پر چلانے کے لئے اور پھر پیغام پہنچا کر دنیا کو اسلام کی خوبصورت تعلیم سے روشناس کروانے کے لئے۔تو ایک ہی درخت ہے جس کو مختلف قسم کے پھل لگ رہے ہیں۔اور ہر احمدی کو اس طرف سوچنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اس کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں، ہمارے قول و فعل میں کوئی تضاد نہ ہو۔ہمیشہ اس کے آگے جھکے رہنے والے ہوں اور اس سے مد د پانے والے ہوں۔اس کی رضا کو حاصل کرنے والے ہوں۔اور اس زمانہ کے مامور کے ذریعہ اسلام کا پیغام پہنچانے کا جو کام ہمارے سپر د ہوا ہے اس کو احسن رنگ میں ادا کرنے والے ہوں۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شمارہ 18 مورخہ 30 اپریل تا 6 مئی 2010 صفحہ 5 تا 8)