خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 176
خطبات مسرور جلد ہشتم 176 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 اپریل 2010 سکتا ہے۔کر دیا۔یہاں ٹورسٹ بھی بے انتہا آتے ہیں۔ان کے لئے چھوٹا چھوٹا خوبصورت لٹریچر مختلف شکلوں میں بنا کر دیا جا۔ٹھیک ہے کچھ ایسے بھی ہوں گے جو نہیں بھی لیں گے۔کچھ لیں گے لیکن تھوڑے فاصلے پر جاکے پھینک دیں گے۔لیکن ایک ایسی تعداد بھی ہو گی جو پڑھے گی۔پس ہمارا کام اپنی ذمہ داری کا ادا کرنا ہے۔اگر ہم اس بات پر کہ Responce اچھی نہیں ہوتی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں تو یہ تو خدا تعالیٰ نے کہا ہی نہیں کہ تم تبلیغ کر وضرور تمہیں اچھی توجہ ملے گی۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ اَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ (القصص: 57 )۔تو جسے پسند کرے ہدایت نہیں دے سکتا لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔پس دنیا کی اصلاح کے لئے آنحضرت صلی علیم کی تڑپ اور آپ کی دعاؤں کے جواب میں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ ہدایت دینا خد اتعالیٰ کا کام ہے۔جسے اللہ چاہے گا، جو سعید فطرت ہیں، انہیں ہدایت ملے گی۔آپ کا کام تبلیغ کرنا اور دعائیں کرنا ہے ، وہ کرتے رہیں۔تو ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہماری ہر کوشش کو ضرور پھل لگے گا۔آپ کا کام اتمام حجت کرنا ہے ، وہ کریں اور پھر دعاؤں پر زور دیں۔اللہ تعالیٰ ہماری بھی پردہ پوشی فرمائے۔ہماری کمزوریوں سے صرفِ نظر فرمائے اور ہماری کوششوں کو قبول کرے۔یہ دعائیں ہیں جو ہمیں کرنی چاہئیں۔اگر ہماری کوششیں صحیح رنگ میں ہوں گی تو باقی کام خدا تعالیٰ کا ہے۔پس کوشش اور دعا کا جو اسوہ آنحضرت صلی ہم نے قائم فرمایا ہے اسے ہمیں اختیار کرنا ہو گا۔یہاں میں اس سلسلہ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ سپین کے جو واقفین نو بچے ہیں ان میں سے ایک تعداد جو یہاں کے پلے بڑھے ہیں، جن کو سپینش زبان بھی اچھی طرح آتی ہے اور جو نوجوانی میں قدم رکھ رہے ہیں، وہ اپنے آپ کو جامعہ میں جانے کے لئے بھی پیش کریں۔تاکہ یہاں بھی اور دنیا کی اور مختلف جگہوں میں بھی جہاں سپینش بولی جاتی ہے اس زبان کو جاننے والے مبلغین کی جو کمی ہے اسے پورا کیا جاسکے اور ہم ان تک پیغام پہنچانے کا حق ادا کر سکیں یا کم از کم کوشش کر سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ہمیں ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جو نہ صرف زبانی بلکہ عملی طور سے کچھ کر کے دکھانے والے ہوں۔علمیت کا زبانی دعوی کسی کام کا نہیں۔ایسے ہوں کہ نخوت اور تکبر سے بکلی پاک ہوں“۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 682 مطبوعہ ربوہ) تبلیغ سلسلہ کے واسطے ایسے آدمیوں دوروں کی ضرورت ہے، مگر ایسے لائق آدمی مل جاویں کہ وہ اپنی زندگی اس راہ میں وقف کر دیں۔آنحضرت صلی الی یکیم کے صحابہ بھی اشاعت اسلام کے واسطے دور دراز ممالک میں جایا کرتے تھے“۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 682 ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)