خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 102 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 102

خطبات مسرور جلد ہشتم 102 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2010 یتیم کو پالنے کی کتنی اہمیت ہے، اس کے بارہ میں ایک حدیث میں آتا ہے کہ عمرو بن شعیب اپنے دادا کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی الم سے دریافت کیا کہ میرے پاس مال نہیں ہے مگر ایک یتیم کا کفیل ہوں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ اپنے زیر کفالت یتیم کے مال سے صرف اسی قدر کھاؤ کہ نہ اسراف ہو، نہ فضول خرچی ہو۔اور نہ ہی اس کے مال سے اپنا ذاتی مال بڑھاؤ۔اسی طرح یہ بھی نہ ہو کہ اس کے مال سے اپنامال بچاؤ۔(مسند احمد بن حنبل۔جلد 2 صفحہ 706 حدیث : 7022 مسند عبد اللہ بن عمر و بن العاص) یعنی یہ نہ ہو کہ تم اس کے مال کو اپنے مال کے ساتھ تجارت میں لگا دو اور منافع کھاتے رہو کہ اصل سرمایہ تو اس کا محفوظ ہے۔فرمایا جو منافع آ رہا ہے اس سے اپنا مال بڑھاتے جاؤ۔اور نہ یہ ہو کہ اپنا مال بچائے رکھو اور اس کے مال میں سے اپنے پر بھی خرچ کرتے جاؤ اور اس پر بھی خرچ کرتے جاؤ۔دونوں صورتوں کو منع فرمایا ہے۔پھر ایک حکم یہ ہے کہ تم نے یتیم پر مالی کشائش رکھتے ہوئے اگر نہیں بھی خرچ کیا یا مالی کشائش نہ رکھتے ہوئے خرچ کیا بھی ہے تب بھی جب وہ یتیم بالغ اور عاقل ہو جائے اور جب تم اس کا مال اسے لوٹانے لگو تو پورے حساب کتاب کے ساتھ اسے لو ٹاؤ کہ یہ جائیداد تھی۔بلکہ یہ بات زیادہ مستحسن ہے کہ اس کے مال کو تجارت میں بھی لگادو اور بڑھاؤ اور حساب کتاب دیتے ہوئے یہ بتاؤ کہ یہ تمہارا اصل سرمایہ تھا، یا یہ جائیداد تھی یا یہ رقم تھی اور اس پر اتنا منافع ہوا ہے اور یہ جو ٹوٹل منافع اور اصل زر ہے وہ تمہیں واپس لو ٹارہا ہوں۔اسی طرح اگر کسی غریب نے اُس مال میں سے یتیم کی پرورش کے لئے خرچ کیا ہے تو بلوغ کو پہنچنے پر ایک ایک پائی کا تمام حساب کتاب اسے دو۔اور یہ حساب کتاب دیتے وقت گواہ بھی بنالیا کرو تا کہ کسی وقت بھی بدظنی پیدا نہ ہو۔یتیم کے دل میں کبھی رنجش نہ آئے۔کیونکہ بعض دفعہ ، بعد میں، یتیم کے دل میں وسوسے بھی آسکتے ہیں۔یا بعض اوقات بعض لوگ یتیموں کے ہمدرد بن کر اس کے دل میں وسوسے ڈال سکتے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت کو سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ جب بھی یتیم کا مال لوٹاؤ تو پورا حساب دو اور اس میں گواہ بنالو۔کیونکہ یہ نگر ان کو بھی کسی ابتلاء سے بچانے کے لئے ضروری ہے اور یتیم کو بھی کسی بد ظنی سے بچانے کے لئے ضروری ہے۔پس جس تفصیل سے قرآن کریم میں یتیموں کے حقوق کے بارہ میں حکم دیا گیا ہے، کہیں اور نہیں دیا گیا۔کسی اور شرعی کتاب میں نہیں دیا گیا۔اسی ایک آیت میں تقریباً سات بنیادی باتیں بیان کی گئی ہیں۔پہلی بات یہ کہ یتیموں کو آزماتے رہو۔ان کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ دو۔اور دیکھو کہ ترقی کی طرف قدم بڑھ رہے ہیں کہ نہیں۔دوسری بات یہ کہ اُن کی تعلیم و تربیت کی طرف خاص طور پر ان کے بالغ ہونے تک توجہ رہے۔یہ نہیں کہ راستے میں چھوڑ دینا ہے۔