خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 103
خطبات مسرور جلد ہشتم 103 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 فروری 2010 تیسری بات یہ کہ جب بھی وہ اپنے مال کی حفاظت کے قابل ہو جائیں تو ان کا مال انہیں فوری طور پر واپس لوٹادو۔چوتھی بات یہ کہ یتیم کا مال صرف اُس پر خرچ کر و۔تم نے اس سے مفاد نہیں اٹھانا۔اور پانچویں بات یہ کہ امیر آدمی اگر کسی یتیم کی پرورش کر رہا ہے تو اس کے لئے بالکل جائز نہیں کہ وہ یتیم کی پرورش کے لئے اس یتیم کے مال میں سے کچھ لے۔اور چھٹی بات یہ کہ غریب جس کے وسائل نہیں ہیں اور وہ کسی یتیم کا نگران بنایا جاتا ہے تو اس کو یتیم کے مال میں سے مناسب طور پر خرچ کرنے کی اجازت ہے۔اور ساتویں بات یہ کہ جب مال لوٹاؤ تو اس پر گواہ بنالو۔تا کہ نہ تمہاری نیت میں کبھی کھوٹ آئے ، نہ تم پر کبھی کوئی الزام لگے اور نہ یتیم کے دل میں بدظنی پیدا ہو۔اور آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ہر وقت دیکھ رہا ہے۔اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔تمہاری نیتوں کا بھی اسے پتہ ہے۔اس لئے یا درکھو کہ اگر یہ حساب کتاب نہیں رکھو گے تو پھر تمہارا بھی ایک دن حساب ہونا ہے۔تم سے ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے گا۔قرآن کریم میں متعدد جگہ یتیم کی پرورش اور اس سے حسن سلوک کا حکم ہے۔اور ان کے مال کی حفاظت کی تاکید کی گئی ہے۔ایک جگہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے سورہ بنی اسرائیل کی آیت 35 ہے کہ وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ وَ اَوْفُوا بِالْعَهْدِ : إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا (بنی اسرائیل: 35) اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریق پر کہ وہ بہترین ہو۔یہاں تک کہ وہ اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچ جائے۔اور عہد کو پورا کرو۔یقیناً عہد کے بارہ میں پوچھا جائے گا۔اس آیت میں ایک تو وہی حکم ہے یا احکامات ہیں کہ جس کی تفصیل پہلے آگئی۔ایک بات اس میں بظاہر زائد لگتی ہے۔وہ یہ ہے کہ اِنَّ العَهْدَ كَانَ مَسْعُولاً کہ یقینا عہد کے بارہ میں پوچھا جائے گا۔یہ کون سا عہد ہے جس کے بارہ میں پوچھا جائے گا؟ یہ کون سا حکم ہے جس کے بارہ میں پوچھا جائے گا؟ حضرت مصلح موعودؓ نے اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے کہ یہاں عہد سے مراد ذمہ داری ہے۔پس یتیموں کی پرورش اور ان کے مال کی حفاظت افراد اور معاشرے پر فرض ہے۔اور یہ معاشرے کی ذمہ داری ہے اور افراد کی بھی ذمہ داری ہے کہ ان کا خیال بھی رکھے اور ان کے مال کی حفاظت بھی کرے۔اور جب تک وہ اس قابل نہیں ہو جاتے کہ اپنے مال کو خود سنبھال سکیں ان کی حفاظت کرتے چلے جائیں۔اور اگر احمدی ہو تو یہ جماعت کی بھی ذمہ داری ہے اور یہ ان یتیموں پر کوئی احسان نہیں ہے کہ بعد میں جتاتے پھرو کہ میں نے تمہارے مال کی، تمہاری جائیداد کی حفاظت کی اور نگرانی کرتارہا۔اگر میں نہ کرتا تو تم ٹھوکریں کھاتے پھرتے۔نہیں! بلکہ اسلامی معاشرے کا یہ فرض ہے اور یتیم کا یہ حق ہے۔