خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 101
خطبات مسرور جلد ہشتم 101 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2010 کے نگر ان کی ذمہ داری لگائی گئی ہے کہ پھر تم اس مال کی نگرانی کرو۔اور ضرورت کے مطابق اس کے خرچ ادا کرو۔لیکن اس عرصہ میں بھی جوں جوں اس کی عمر بڑھ رہی ہے، بعضوں کو ذرا دیر سے سمجھ آتی ہے ، اسے مالی امور کے جو نشیب و فراز ہیں وہ سمجھاتے رہو تا کہ وہ کسی نہ کسی وقت پھر اپنا مال سنبھال سکے۔بعض معاملات میں بعض بظاہر کمزور سمجھ رکھنے والے ہوتے ہیں ہر چیز کو پوری طرح نہیں سنبھال سکتے۔لیکن میں نے دیکھا ہے کہ اس کے باوجود ان کو پیسے کا استعمال اور پیسے کا رکھنا بڑا اچھا آتا ہے۔سوائے اس کے کہ بالکل کوئی فاتر العقل ہو۔لوگ سمجھتے ہیں کہ بیوقوف ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں جھلا ہے۔لیکن وہ جھیلا بھی ایسے ایسے کاروبار کرتا ہے کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے نہیں کر رہے ہوتے۔پھر فرمایا کہ جو نگران بنائے گئے ہیں وہ اس یتیم کے ماں باپ کی جائیداد کے استعمال میں اسراف سے کام نہ لیں۔یعنی ان یتیموں پر ان کے ماں باپ کی جائیداد یار تم میں سے اس طرح خرچ نہ کرو جس کا کوئی حساب کتاب ہی نہ ہو۔اور بہانے بنا کر اس رقم سے ان یتیموں کے اخراجات کے نام پر خود فائدہ اٹھاتے رہو۔اور یہ کوشش ہو کہ ان یتیموں کی رقم سے جتنازیادہ سے زیادہ اور جتنی جلدی میں فائدہ اٹھالوں، بہتر ہے۔کیونکہ اگر وہ بڑے ہو گئے تو پھر ان کی جائیداد ان کے سپر د کرنی پڑے گی، یا اگر کوئی ظالم ہے تو وہ خود لڑکر بھی لے لیں گے۔کئی معاملات ایسے ہوتے ہیں کہ بڑے ہونے تک لوگ ان کی جائیدادیں سنبھالے رکھتے ہیں اور آخر پھر عدالتوں میں یا قضا میں جاکر جائیداد ان کو واپس ملتی ہے۔بہر حال فرمایا کہ اگر تمہاری نیتیں خراب ہوئیں تو تمہیں حساب دینا پڑے گا۔پھر اللہ تعالیٰ نے کسی بدنیت یا ظالم کے ظلم کو روکنے کے لئے مزید پابندی لگادی کہ جو امیر ہے اور یتیم کو پالنے کا خرچ برداشت کر سکتا ہے اس کی خوراک، لباس، تعلیم و تربیت کے لئے اچھا انتظام کر سکتا ہے اس کے لئے یہی لازمی ہے کہ وہ یتیم کی جائیداد میں سے کچھ خرچ نہ لے بلکہ اپنے پاس سے اپنی جیب سے خرچ کرے۔يَسْتَغفِف کا مطلب ہی یہ ہے کہ کبھی دل میں یہ خیال بھی آئے کہ کچھ خرچ کر لوں تو تب بھی اس خیال کو جھٹکے اور کوشش کر کے اپنے آپ کو ایسی حرکت اور ظلم سے بچائے، اور شیطانی خیالات کو نکال کر باہر پھینکے۔اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف جو بھی حکم دل میں آئے گاوہ شیطانی خیال ہو گا۔پس صاحب ثروت کے لئے تو یہ حکم ہے کہ وہ یتیم کی پرورش اپنی جیب سے کرے۔چاہے نابالغ یتیم کے والدین جتنی بھی جائیداد اس کے لئے چھوڑ گئے ہوں۔فرمایا، جو غریب ہیں، اتنی مالی کشائش نہیں رکھتے کہ اپنے گھریلو اخراجات کے ساتھ کسی یتیم کے اخراجات اور اس کی اچھی تعلیم وغیرہ کا خرچ برداشت کر سکیں تو ان کے لئے جائز ہے کہ وہ یتیم کے لئے اس کے والدین کی طرف سے چھوڑی گئی جائیداد میں سے اس کے اوپر خرچ کریں۔لیکن یہ خرچ بہت احتیاط سے ہو اور مناسب ہو اور اس کا حساب رکھا ہو۔یہ نہیں کہ یتیم پر خرچ کے ساتھ ساتھ اپنے گھر کا بھی خرچ کرناشروع کر دو کہ میں نے اسے اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے اس لئے اب میں خرچ کرنے کا حق رکھتا ہوں۔اس کی رہائش یا بجلی پانی کا خرچ بھی اس میں شامل کر دوں۔بعض کنجوس یا بد نیت ایسے ہوتے ہیں جو اس حد تک بھی چلے جاتے ہیں۔