خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 100 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 100

خطبات مسرور جلد ہشتم 100 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2010 یتیموں کے بارہ میں یہ بعض احکامات ہیں کہ ان سے کس طرح کا سلوک کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے شروع ہی اس طرح فرمایا ہے کہ وَابْتَلُوا الْيَتمی کہ یتیموں کو آزماتے رہو۔آزمانا کیا ہے ؟ کس طرح آزمانا ہے ؟ یہی کہ تمہارے سپر دجو یتیم کئے گئے ہیں ان کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھو۔انہیں لاوارث سمجھ کر ان کی تربیت سے غافل نہ ہو جاؤ، ان کی تعلیم سے غافل نہ ہو جاؤ بلکہ انہیں اچھی تعلیم و تربیت مہیا کر و۔اور جس طرح اپنے بچوں کا وقتا فوقتا جائزہ لیتے رہتے ہو ، اُن کے بھی جائزے لو کہ تعلیمی اور دینی میدان میں وہ خاطر خواہ ترقی کر رہے ہیں یا نہیں؟ پھر جس تعلیم میں وہ دلچسپی رکھتے ہیں اس کے حصول کے لئے ان کی بھر پور مدد کرو۔یہ نہیں کہ اپنا بچہ اگر پڑھائی میں کم دلچسپی لینے والا ہے تب اس کے لئے تو ٹیوشن کے انتظام ہو جائیں ، بہتر پڑھائی کا انتظام ہو جائے اور اس کی پڑھائی کے لئے خاص فکر ہو اور یتیم بچہ جس کی کفالت تمہارے سپر د ہے وہ اگر آگے بڑھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے تب بھی اس کی تعلیم پر ، اس کی تربیت پر کوئی نظر نہ رکھی جائے۔نہیں! بلکہ اس کی تمام تر صلاحیتوں کو بھر پور طور پر اجاگر کرنے کی کوشش کی جائے۔یہ اصل حکم ہے۔اور جتنی بھی اس کی استعدادیں اور صلاحیتیں ہیں اس کے مطابق اس کو موقع میسر کیا جائے کہ وہ آگے بڑھے اور مستقبل میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہو۔کبھی اسے یہ خیال نہ ہو کہ میں یتیم ہونے کی وجہ سے اپنی استعدادوں کے صحیح استعمال سے محروم رہ گیا ہوں۔اگر میرے ماں باپ زندہ ہوتے تو میں اس وقت سبقت لے جانے والوں کی صف میں کھڑ ا ہوتا۔پس چاہے کوئی انفرادی طور پر کسی یتیم کا نگران ہے یا جماعت کسی یتیم کی نگرانی کر رہی ہے اس کی تعلیم و تربیت کا مکمل جائزہ اور دوسرے معاملات میں اس کی تمام تر نگرانی کی ذمہ داری ان کے نگرانوں پر ہے۔اور پھر یہ جائزہ اس وقت تک رہے جب تک کہ وہ نکاح کی عمر تک نہ پہنچ جائیں۔یعنی ایک بالغ ہونے کی عمر تک نہ پہنچ جائیں۔ایک بالغ اپنے اچھے اور بُرے ہونے کی تمیز کر سکتا ہے۔اگر بچپن کی اچھی تربیت ہو گی تو اس عمر میں وہ معاشرے کا ایک بہترین حصہ بن سکتا ہے۔لیکن یہاں بھی دیکھیں کہ کتنی گہرائی سے ایک اور سوال کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ صرف بالغ ہونا کسی کو اس قابل نہیں بنادیتا کہ اگر اس کے ماں باپ نے کوئی جائیداد چھوڑی ہے تو اس کو صحیح طور پر سنبھال بھی سکے۔یہاں عاقل ہونا بھی شرط ہے یعنی ذمہ داری کا احساس اور اس دولت کے صحیح استعمال کا فہم ہونا بھی ضروری ہے۔اس لئے فرمایا کہ ان کی عقل کا جائزہ بھی لو۔اگر تو ایک بچہ جوانی کی عمر کو پہنچنے تک اپنی پڑھائی میں بھی اور دوسری تربیت میں بھی، اپنے اٹھنے بیٹھنے میں بھی، چال ڈھال میں بھی عمومی طور پر بہتر نظر آرہا ہے اس کی عقل بھی صحیح ہے تو ظاہر ہے اس کے سپر د اس کا مال کیا جائے۔اس لئے کہ وہ حق دار بنتا ہے کہ اس کو اس کا ورثہ لوٹایا جائے۔وہ خود اس کو سنبھالے یا اس کو آگے بڑھائے یا جو بھی کرنا چاہتا ہے کرے۔لیکن اگر کوئی باوجود بالغ ہونے کے دماغی طور پر اتنی صلاحیت نہیں رکھتا کہ اپنے مال کی حفاظت کر سکے تو پھر اس کے مال کی حفاظت کرو۔اس