خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 99 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 99

خطبات مسرور جلد ہشتم 9 99 99 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 فروری 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 فروری 2010ء بمطابق 26 تبلیغ 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: وَابْتَلُوا الْيَتَى حَتَّى إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ أَنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَلَا تَأْكُلُوهَا إسْرَافًا وَ بِدَارًا أَنْ يَكْبَرُوا وَ مَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَ مَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلُ بِالْمَعْرُوفِ فَإِذَا دَفَعْتُمُ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُ وَاعَلَيْهِمْ وَكَفَى بِاللَّهِ حَسِيبًا ( النساء: 7) گذشتہ خطبہ میں میں نے ایک قرآنی حکم کی طرف توجہ دلائی تھی جو اگر اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے بجالایا جائے تو معاشرے کے امن کی ضمانت بن جاتا ہے۔اور چونکہ اس حکم کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حسیب ہونے کا ذکر فرمایا۔اس لئے یہ ہر مسلمان کے لئے تنبیہ ہے کہ اگر اس اہم حکم یعنی ایک دوسرے پر سلامتی بھیجنے پر عمل نہیں کرو گے تو خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہو گے۔بہر حال اسی تسلسل میں ایک دوسرا اہم حکم جو نہ صرف حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے ایک اہم حکم ہے بلکہ معاشرے کے امن اور نفرتوں کو مٹانے کے لئے بھی بہت اہم ہے۔اور یہ حکم سورۃ نساء کی ساتویں آیت میں ہے جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے۔اس کے آخر میں بھی خدا تعالیٰ نے اپنے حسیب ہونے کے حوالے سے تنبیہ فرمائی ہے کہ اگر اس حکم کو نہیں بجالاؤ گے تو خدا تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہو گے۔یتیموں کے حقوق اور حسن سلوک اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ اور یتیموں کو آزماتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں۔پس اگر تم ان میں عقل کے آثار محسوس کرو تو ان کے اموال ان کو واپس کر دو۔اور اس ڈر سے اسراف اور تیزی کے ساتھ ان کو نہ کھاؤ کہ کہیں وہ بڑے نہ ہو جائیں۔اور جو امیر ہو ، اس کو چاہئے کہ وہ ان کا مال کھانے سے کلیۂ احتراز کرے۔ہاں جو غریب ہو وہ مناسب طور پر کھائے۔پھر جب تم ان کی طرف ان کے اموال لو ٹاؤ، تو ان پر گواہ ٹھہر الیا کرو۔اور اللہ حساب لینے کے لئے کافی ہے۔