خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 43
43 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم استہزا کرنے دو ظلم کر رہے ہیں کرنے دو اور فرمایا کہ إِنَّا كَفَيْنَكَ الْمُسْتَهْزِءِ يُنَ (الحجر: 96 یقینا ہم استهزاء کرنے والوں کے لئے تجھے بہت کافی ہیں۔اور دنیا نے دیکھا کہ کس طرح دشمنان اسلام سے اللہ تعالیٰ نے بدلہ لیا اور ان کے مقابلہ میں کافی ہوا۔اللہ تعالیٰ نے جو آنحضرت ﷺ کو یہ فرمایا ہے کہ آپ اعلان کریں کہ فَاتَّبِعُونِی يُحْبِبْكُمُ الله ( آل عمران : 32) کہ میری پیروی کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا تو آپ کی پیروی کا سب سے اعلیٰ معیار قائم کرنے والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تھے تبھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی وہ مقام عطا فرمایا جو تمام دنیا کو اس زمانہ میں دین واحد پر جمع کرنے کے لئے آپ کو ملا اور یہ سب آنحضرت ﷺ کی کامل پیروی اور محبت تھی جس سے خدا تعالیٰ نے بھی آپ سے محبت کی اور اس وجہ سے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے بعض آیات یا ان کے کچھ حصے الہا نا فرمائے۔پہلے بھی میں ذکر کر چکا ہوں۔اِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِءِ يُنَ (الحجر: 96) بھی آپ کے الہامات میں سے ایک الہام ہے۔اللہ تعالیٰ نے بے شمار موقعوں پر آپ کی تائید میں سامان فرما کر دشمن کو ہمیشہ شرمندہ کیا اور دشمنوں کو کئی موقعوں پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا لیکن جب عزت کے معیار بدل جائیں یا ڈھٹائی کی انتہا ہو جائے تو پھر احساس مر جاتے ہیں۔پھر آدمی مانتا نہیں کہ مجھے شرمندگی ہوئی۔ایسے مواقع بھی آئے کہ ایسے بڑے بڑے جبہ پوش جو اپنے آپ کو بڑا عالم سمجھتے تھے۔بڑا معزز سمجھتے تھے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلے میں آئے تو عدالتوں میں انکو بڑی سبکی اٹھانی پڑی۔مولوی محمد حسین بٹالوی کا ایک واقعہ ہے کہ جب اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ( عدالت میں) کرسی پر بیٹھے دیکھ کر کرسی کا مطالبہ کیا تو جج نے ڈانٹ دیا۔اور پھر وہاں سے نکل کر جب باہر عدالت کے دروازے پر کرسی پر بیٹھنے لگا تو وہاں بھی چپڑاسی نے یا چوکیدار نے کرسی پر بیٹھنے نہیں دیا۔اگر انسان کو صرف احساس ہو تو اس طرح کی سیکیوں کے واقعات ہوتے ہیں۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں اس طرح کے کئی واقعات ہوئے۔اس وقت تو بیان کرنے کا وقت نہیں ہے۔آج بھی مخالفین حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نہ مان کر جو اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ تو حاصل کر سکتے ہیں اور نہ کر سکے اور نہ کر سکیں گے انشاء اللہ لیکن ہم آپ کے بچے ہونے اور آنحضرت میلہ کے غلام صادق ہونے کے ثبوت کے نظارے ہر روز دیکھتے ہیں۔پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کے ہر موقع پر کافی ہونے کا اظہار، جس کے نظارے اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دکھاتا ہے اور اس سے ایمان بڑھتا ہے اور یہ نظارے جو ہم دیکھتے ہیں تو میں یہ کہوں گا کہ ہر احمدی کو اس پر غور کرتے ہوئے اپنے ایمان میں ترقی کرنی چاہیئے صرف سرسری طور پر نہیں دیکھنا چاہئے۔اور پھر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بنتے ہوئے اس کے ان بندوں میں شمار ہونے کی دعا کرنی چاہئے جن کے لئے اللہ تعالیٰ ہمیشہ