خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 44
خطبات مسرور جلد ہفتم 44 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 2009 کافی ہو جاتا ہے اور یہ صرف اس صورت میں ہوگا جب ہم تقویٰ پر چلتے ہوئے آنحضرت تم اللہ کی حقیقی پیروی کرنے والے اور آپ کے عاشق صادق کے ساتھ تعلق میں بڑھنے والے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج ہم ہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو ہر روز ایک نئی شان سے پورا ہوتا دیکھتے ہیں۔آج ہم ہی ہیں جو آنحضرت ﷺ سے سچا، حقیقی اور عاشقانہ تعلق رکھنے والے ہیں۔پس ہمارے مخالف اور ہمارے دشمن ہم پر جھوٹے الزام لگانے اور استہزاء کرنے اور بدنام کرنے کے لئے جتنا بھی زور لگا لیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے لئے جس طرح پہلے کافی تھا وہ آج بھی ہمارے لئے کافی اور آئندہ بھی انشاء اللہ کافی ہوگا۔یہ علماء سوء اور ان کے پیچھے چلنے والے بلکہ پاکستان میں نام نہاد پڑھے لکھے لوگ جو آج کل انصاف کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والوں کو اپنے زعم میں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں یا تضحیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس کا ایک حالیہ واقعہ سن لیں۔ہمارے احمدیوں پر کچھ عرصہ ہوا ایک کیس ننکانہ میں بنا تھا اور کیس یہ تھا کہ مولویوں نے کوئی اشتہار لگایا تھا جس کے بارہ میں کہا گیا کہ کسی احمدی نے اس کو دیوار سے پھاڑ دیا یا کچھ احمدیوں نے پھاڑ دیا۔حالانکہ قطعاً بے بنیادالزام تھا اس کی کوئی حقیقت نہیں تھی۔ہم تو وہ لوگ ہیں جن کو سامنے بھی گالیاں دی جائیں تب بھی صبر کرتے ہیں۔اتنی زیادہ صبر کی تلقین حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے ہمیں کی گئی ہے اور صبر کرنے کے لئے کہا گیا ہے کہ ہم نے انتقام لینے کی نہ کوشش کی اور نہ بدلہ لینے کی۔اگر ان کو عقل ہو تو نظر آئے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو مختلف موقعوں پر اپنے مسیح کی جماعت کو تنگ کرنے والوں سے انتقام لیتا ہے۔بہر حال اس الزام پر پولیس نے مقدمہ درج کیا۔چھوٹی عدالت میں پیش ہوا۔وہاں ضمانت نہیں ہوئی۔ردّ ہو گیا۔پھر ہائیکورٹ میں پیش ہوا۔ہائیکورٹ کے جج صاحب رانا زاہد محمود صاحب ہیں۔انہوں نے اپنے خداؤں کو خوش کرنے کے لئے جو فیصلہ دیا وہ عجیب ظالمانہ فیصلہ ہے۔فرماتے ہیں کہ ایسے ملزم عدالتوں سے دادرسی کا استحاق نہیں رکھتے جو پاک ہستیوں کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔ہمارے نزدیک جوسب سے مقدس ہستی ہے وہ تو آنحضرت ﷺ کی ذات ہے۔اور ایک احمدی کبھی تصور بھی نہیں کر سکتا کہ آنحضرت میں کی شان میں گستاخی کرے۔ہم تو آپ کے حقیقی غلام کے غلام ہیں۔اور نہ ہی ہم ان لوگوں میں شامل ہیں جو صحابہ رضوان اللہ علیہم کی شان میں کبھی گستاخی کریں۔ان حج صاحب کے نزدیک آج کل کے بکا و مولوی اگر مقدس ہستیاں ہیں تو ان کے لئے گو ہم کہتے کچھ نہیں لیکن ان کی شان میں تعریف بھی نہیں کر سکتے ، یہ ان جوں کا جوابن الوقت لوگ ہیں مقام ہے کہ ان کی شان میں تعریفیں کریں۔ہم تو ہمیشہ آنحضرت ﷺ اور تمام مقدس لوگوں کی شان کو بڑھانے والے ، تعریف کرنے والے اور ان کا مقام پہچاننے والے ہیں۔تو یہ ہے آج کل کی عدلیہ بلکہ آج کل کیا ایک عرصہ