خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 42 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 42

42 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم تو جیسا کہ میں نے کہا دنیا کے لئے عبرت کا نشان بن جاتے ہیں اور آخرت میں اس سے بھی زیادہ سزا ہوگی۔اللہ تعالیٰ کے پیارے اور اس کو ماننے والے اس کے احکامات پر عمل کرنے والے فَادْخُلِي فِي عِبادِى (الفجر: 30 ) کی خوشخبری پانے والے بنتے ہیں۔تقویٰ پر چلنے اور احسن عمل کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنتے ہیں اور اس مقام کو سب سے زیادہ حاصل کرنے والی آنحضرت ﷺ کی ذات تھی جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا۔پس اللہ تعالیٰ آپ کی وجہ سے آپ کے غلاموں کے لئے بھی کافی ہو گیا اور ان کے لئے بھی اپنی قدرت کے نظارے دکھائے اور دکھا رہا ہے۔آپ کے غلاموں میں سے اکمل ترین غلام آپ کے عاشق صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام ہیں۔جن کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا یہ حصہ کہ اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ کئی مرتبہ الہام کیا۔پہلی مرتبہ تو آپ کے والد صاحب کی وفات پر جب آپ کو اللہ تعالیٰ نے ان کی وفات کی اطلاع دی اور آپ کو فکر پیدا ہوئی تو اس وقت فرمایا کہ اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبدَہ کہ کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم میرا بندہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہو اور تم جانتے ہو کہ تم میرے بندے ہو اور مجھے تم سے پیار ہے اور میں اس کا اظہار بھی پیار کی شکل میں کرتا رہتا ہوں اور یہ الہام اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبدَہ بھی اسی پیار کا اظہار ہے جو اللہ تعالیٰ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تھا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ والد کے وفات پانے کے بعد تجھے کسی قسم کے فکر کی ضرورت نہیں ہے۔میں تیرے ساتھ ہوں۔ہر ضرورت پوری کروں گا اور پھر اللہ تعالی نے آپ کو ہمیشہ ہر قسم کی فکر معاش سے آزاد کر دیا اور نہ صرف آزاد رکھا بلکہ آپ کے ہاتھوں سے ایک دنیا کو کھلایا اور آج تک کھلاتا چلا جارہا ہے۔پھر اس کے بعد متعدد مرتبہ یہ الہام ہوا۔ایک دفعہ نہیں ہوا بلکہ کئی دفعہ ہوا۔وہاں صرف معاش تک بات محدود نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے دشمن کے ہر حملے، ہر کوشش اور ہر تدبیر سے آپ کو بچایا اور آپ کے لئے کافی ہوا بلکہ بعض اوقات فوری انتقام لیتے ہوئے دشمن کو اس سزا کا بھی مورد بنادیا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مقدر کی تھی۔اس لئے عبرت کا نشان بن گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی ایسے کئی واقعات سے بھری ہوئی ہے۔جس طرح خدا تعالیٰ آپ کے آقا و مطاع حضرت محمدمصطفی عملے کے لئے کافی ہوتے ہوئے آپ کو ہمیشہ دشمنوں سے بچاتا رہا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس کچی غلامی کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بھی دشمنوں نے مقدموں کی صورت میں یا اور مختلف حربے استعمال کر کے جو حملے کئے ان سے ہمیشہ آپ کو بچایا۔حکومت کے پاس مخالفین نے شکایات کیں۔یہاں تک کہ افسران اور پولیس والے آپ کے گھر کی تلاشی تک لینے آگئے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اپنے کافی ہونے کا ثبوت دیا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت علی ﷺ کو فرمایا کہ تم اپنے کام کئے جاؤ کفار کو اپنی کوششیں اور