خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 41 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 41

41 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد هفتم غیرت رکھنے والا ہے۔یہ لوگ ہیں جو حقیقی عبد ہیں۔اس کے یہ معنی نکلتے ہیں اور اس کا اعلیٰ ترین معیار جس سے اوپر کوئی انسان جانہیں سکتا وہ آنحضرت ﷺ کی ذات ہے اور جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے کافی ہونے کے وہ نظارے دکھائے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ہر دشمن سے آپ کو اس طرح بچایا کہ کوئی انسان اس کا سوچ بھی نہیں سکتا اور کوئی انسانی طاقت اس کو اس طرح بچا نہیں سکتی۔ہجرت کے وقت اللہ تعالیٰ آپ کے لئے غار میں کافی ہوا۔کس طرح بچایا۔انعام کے لالچ میں آپ کو پکڑنے کے لئے پیچھا کرنے والے کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کافی ہوا۔جنگوں میں خدا تعالیٰ کافی ہوا۔جب آپ کہتے تھے اور دشمن کے ہاتھ میں تلوار تھی۔اس نے آپ کو سوئے ہوئے جگایا اور پوچھا کہ اب تجھے کون مجھ سے بچائے گا تب اللہ تعالیٰ کافی ہوا۔پھر صحابہ نے اپنی زندگیوں میں یہ نظارے دیکھے۔تو یہ آنحضرت ﷺ کی سچائی کا ثبوت ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نہ صرف آپ کے لئے بلکہ آپ کے صحابہ کے لئے ، ان بندوں کے لئے بھی کافی ہوا جو حقیقی عبد بننے کی کوشش کر رہے تھے اور ان کے دل سے بندوں کا خوف بالکل ختم ہو گیا اور وہ لوگ خالص اللہ تعالیٰ کے ہو گئے۔ان کو بھی رَضِيَ الله عنہ کی خوشخبری ملی۔اور جو بد بخت کفار تھے جن کے مقدر میں گمراہی تھی وہ اپنے انجام کو پہنچے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہدایت وہی پاتا ہے جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے اور جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔پس ہدایت کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنا چاہئے۔ایمان میں ترقی کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنا چاہئے اور ہدایت پا کر پھر اس پر قائم رہنے کے لئے بھی ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنا چاہئے۔جو ہدایت پاتے ہیں وہ پھر اس معنی میں حقیقی عبد بن کر دکھاتے ہیں جو معنی میں نے عبد کے بیان کئے اور جانتے ہیں کہ اس میں ہی ان کی ہر قسم کی بقا ہے۔وہ جانتے ہیں کہ حقیقی غلبہ اللہ تعالیٰ کو ہی حاصل ہے اور اللہ تعالیٰ کے نبیوں اور ان کی جماعتوں کو نقصان پہنچانے والے یا نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والے اللہ تعالیٰ کی سزا سے بچ نہیں سکتے۔اور اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں اور ان کے ماننے والوں کی دشمنی کرنے والوں سے انتقام بھی لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا انتقام ان پر دنیا یا آخرت میں سزا کی صورت میں ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے کہ اس کے پیاروں سے کوئی دشمنی کی جائے اور اس کے لئے پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے وہ جلوے دکھاتا ہے کہ بعض دفعہ عبرت کا نشان بن جاتے ہیں۔پھر ان لوگوں کے لئے دنیا میں کوئی جائے پناہ نہیں ہوتی اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آخرت میں ان سے اچھا سلوک نہ کیا جائے گا۔پس یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بھیجے ہوؤں اور ان کے ماننے والوں کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے نشان ہے کہ وہ صرف ان کی سچائی ثابت نہیں کرتا بلکہ ان کو دشمن کے ہر حملے سے بچاتا ہے۔ان کو تحفظ دیتا ہے اور ان کے لئے ہمیشہ نشانات ظاہر فرماتا رہتا ہے۔اور ان کے مخالفین سے ایسے انتقام بھی لیتا ہے جو اگر اس دنیا میں ہوں ا۔