خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 508
خطبات مسرور جلد ہفتم 508 خطبہ جمعہ فرموده 30 اکتوبر 2009 آنحضرت ﷺ کا ایسا رعب طاری فرمایا کہ اس کا ہاتھ وہیں کھڑا رہ گیا اور حملے کی جرات نہیں ہوئی۔اتنے میں آنحضرت ﷺ نے مڑ کے دیکھا تو اس کے ہاتھ میں تلوار تھی۔تلوار کا قبضہ ہاتھ میں تھا اور اٹھائی ہوئی تھی۔تو آپ ﷺے اس الله کے ارادے کو بھانپ گئے اور پیچھے ہو گئے ، ایک طرف ہو گئے۔اس پر وہ دونوں وہاں سے چپکے سے چلے گئے اور آپ نے ان کو جانے دیا، کچھ نہیں کہا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک تو آنحضرت مہ کی حفاظت فرمائی اور پھر ان دونوں سے انتقام کس طرح لیا؟ اس کے ساتھی پر تو راستہ میں بجلی گری اور ختم ہو گیا۔اور عامر کے متعلق آتا ہے کہ وہ کا ر بنکل ایک بیماری ہے۔ایک پھوڑا ہوتا ہے،اس سے ہلاک ہو گیا۔(ماخوذاز تفسیر کبیر جلد سوم صفحه 392-391 مطبوعہ ربوہ ) تو یہ ایک مثال ہے جیسا کہ میں نے کہا کہ مختلف وقتوں میں آپ کی حفاظت کے واقعات ہمیں ملتے ہیں اور چند ایک نہیں بلکہ آپ کی پوری زندگی ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جس میں خدا تعالیٰ کی خاص حفاظت فرشتوں کے ذریعے سے نظر آتی ہے۔اس حفاظت کا وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے مکہ میں کیا تھا مدینہ میں آپ کی تسلی کے لئے اس کا اعادہ فرمایا اور فرمایا وَ اللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة :68) یعنی اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کے حملوں سے محفوظ رکھے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : حضرت ﷺ کا کسی کے ہاتھ سے قتل نہ کیا جانا ایک بڑا بھاری معجزہ ہے اور قرآن شریف کی صداقت کا ثبوت ہے۔کیونکہ قرآن شریف کی یہ پیشگوئی ہے کہ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة : 68) اور پہلی کتابوں میں یہ پیشگوئی درج تھی کہ نبی آخر زمان کسی کے ہاتھ سے قتل نہ ہوگا“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 364-363 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھا ہے کہ علاوہ فرشتوں کے میرے نزدیک وہ مخلص صحابہ بھی مُعَقِّبَات میں سے تھے جنہوں نے خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ ﷺ کے آگے پیچھے لڑنے کا عہد پورا فرمایا۔اور صحابہ نے خدا تعالیٰ کے حکم سے آپ کی حفاظت کی۔اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ مِنْ اَمْرِ اللهِ کہ خدا تعالیٰ کے حکم سے حفاظت کرنے والے ہیں۔ایک تو فرشتوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ حفاظت فرماتا رہا۔دوسرے اللہ تعالیٰ نے مومنین کے دلوں کو پابند کر دیا کہ وہ آپ ﷺ کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے ہر وقت تیار ر ہیں اور آپ کی حفاظت کے لئے ہر وقت حاضر رہیں۔اُس ایمان کی وجہ سے یہ قربانی دیں جو آنحضرت ﷺ کے ذریعہ ان صحابہ کے دلوں پر قائم ہوا۔ان صحابہ نے کسی قومیت یا قبیلے کی وجہ سے آپ کا ساتھ نہیں دیا۔یا کسی دوستی اور ضد کی وجہ سے ساتھ نہیں دیا۔بعض دفعہ بعض ایسے ساتھی بن جاتے ہیں جو کسی کی مخالفت اس لئے کرتے ہیں کہ خود بھی اس کے مخالف ہوتے ہیں اور ضد میں ساتھ دے رہے ہوتے ہیں۔آپ کے آگے اور پیچھے لڑنے کے لئے کسی ضد کی وجہ سے یہ لوگ تیار نہیں