خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 509
509 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرموده 30 اکتوبر 2009 ہوئے تھے یا کسی حکومت کے خوف کی وجہ سے مجبور نہیں تھے۔بلکہ اس ایمان کی وجہ سے جو خدا تعالیٰ نے صحابہ کے دلوں میں پیدا کیا تھا خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے آپ کی حفاظت کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔پس سب سے زیادہ تو آنحضرت ﷺ کی ذات کی حفاظت کے لئے ہی اللہ تعالیٰ نے انتظام فرمایا۔لیکن ایک معنی اس کے یہ بھی ہیں جو ہر انسان پر لاگو ہوتے ہیں کیونکہ ہر انسان کی حفاظت کا بھی اللہ تعالیٰ نے انتظام فرمایا ہوا ہے۔اگر وبائی امراض نہ بھی پھیلی ہوں تب بھی فضا میں مختلف قسم کے بیماریوں کے جراثیم ہیں جو انسان کی سانس کے ساتھ جسم میں داخل ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایک دفاعی نظام رکھا ہوا ہے جو انسان کے اندر ان گندے جراثیم کو انسانی جسم کو متاثر کرنے سے باز رکھتا ہے۔اور اس کے علاوہ اپنے خاص ولیوں کو بعض دفعہ نشان کے طور پر بھی ان چوکیداروں کے ذریعہ سے حفاظت کا نظارہ دکھاتا ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کے اُن فرستادوں کے لئے نہیں ہوتے بلکہ ان کے ماننے والوں کی بھی حفاظت کرتے ہیں۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد سوم صفحه 393-392 مطبوعہ ربوہ ) اس زمانہ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کی نشانی کے طور پر طاعون کی بیماری کا نشان دکھایا تو آپ اور آپ کے حقیقی ماننے والوں کی حفاظت کا وعدہ بھی فرمایا۔چنانچہ جب حکومت نے کہا تھا کہ ٹیکہ لگوایا جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کشتی نوح میں اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”ہم بڑے ادب سے اس محسن گورنمنٹ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ اگر ہمارے لئے ایک آسمانی روک نہ ہوتی تو سب سے پہلے رعایا میں سے ہم ٹیکا کراتے“۔فرمایا کہ اور آسمانی روک یہ ہے کہ خدا نے چاہا ہے کہ اس زمانہ میں انسانوں کے لئے ایک آسمانی رحمت کا نشان دکھاوے۔سواس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تو اور جو شخص تیرے گھر کی چار دیوار کے اندر ہوگا اور وہ جو کامل پیروی اور اطاعت اور سچے تقویٰ سے تجھ میں محو ہو جائے گا وہ سب طاعون سے بچائے جائیں گے۔اور ان آخری دنوں میں خدا کا یہ نشان ہوگا۔کشتی نوح - روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 1-2 اور دنیا نے دیکھا کہ کس طرح با وجود بڑے وسیع پیمانے پر طاعون پھیلنے کے اور کئی سال تک یہ وبا چلتے چلے جانے کے پانچ چھ سال کے عرصے پر محیط ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی محفوظ رہے۔پھر بیماریوں کے علاوہ بھی مختلف قسم کے صدمات ہیں۔مال کا صدمہ انسان کو پہنچتا ہے۔اولا د کا صدمہ انسان کو پہنچتا ہے۔عزت کا صدمہ پہنچتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہی اپنے فضل سے یہ طاقت دیتا ہے تو انسان وہ برداشت کر سکتا ہے۔ور نہ انسان اس صدمہ سے ہی پاگل ہو جاتا ہے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا ایک طریقہ ہے۔بعض انسانوں پر ان صدمات کے اثرات نظر بھی آتے ہیں اور عجیب ذہنی کیفیت ان کی ہوئی ہوتی ہے۔بلکہ اس حالت میں پھر بعض دفعہ