خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 507
خطبات مسرور جلد ہفتم 507 خطبہ جمعہ فرموده 30 اکتوبر 2009 ” خدا تعالیٰ کی طرف سے چوکیدار مقرر ہیں جو اس کے بندوں کو ہر طرف سے یعنی کیا ظاہری طور پر اور کیا باطنی طور پر حفاظت کرتے ہیں۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 79) یہ حفاظت سب سے زیادہ کن لوگوں کی ہوتی ہے؟ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کے فرستادوں کی؟ ان کی حفاظت پر سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ نے اپنا حفاظتی ہاتھ رکھا ہوا ہے، اور آنحضرت میہ کی پیدائش کے بعد خدا تعالیٰ کو اگر کوئی سب سے پیارا تھا تو وہ آنحضرت میہ کی ذات تھی۔اور پیدائش سے لے کر وفات تک ہر موقع پر جس طرح خدا تعالیٰ نے اپنے اس قول کو آپ اللہ کی ذات پر پورا کر کے دکھایا ، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی تفسیر میں اسی وجہ سے فرمایا ہے کہ لَهُ مُعَقِّبَات یعنی اس کے لئے چوکیدار ہیں۔لہ کی ضمیر جو ہے آنحضرت ﷺ کی ذات کی طرف پھرتی ہے۔جہاں ہر موقع پر خدا تعالیٰ کی حفاظت ہمیں نظر آتی ہے۔مکہ میں آپ نے جو زندگی گزاری جیسا کہ اسلام کی تاریخ سے ہر ایک پر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ہر موقعہ پر آپ کی حفاظت فرمائی۔سورۃ رعد جس کی میں نے آیت پڑھی ہے۔یہ آپ پر مکہ میں نازل ہوئی تھی جبکہ دشمنی کی ایک انتہا ہوئی ہوئی تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق ان خوفناک اور خطرناک حالات میں بھی آپ کی ایسی حفاظت فرمائی کہ دشمن جو چاہتا تھا، جس مقصد کو حاصل کرنا چاہتا تھا اس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکا۔بدر کی جنگ میں ہم ظاہری و باطنی حفاظت کا شاندار نظارہ دیکھتے ہیں۔پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ عامرا بن طفیل ایک سردار تھا۔آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔اس نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ اگر میں مسلمان ہو جاؤں تو کیا آپ کے بعد خلافت مجھے مل جائے گی ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس شرط لگانے والے اور اس کی قوم کو کبھی بھی خلافت نہیں مل سکتی۔اس پر وہ ناراض ہو گیا اور کہا کہ میں ایسے سوار لاؤں گا جو آپ کو نعوذ باللہ الیسا سبق دیں گے کہ آپ ہمیشہ یا درکھیں گے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ تمہیں کبھی اس کی توفیق ہی نہیں دے گا۔بہر حال وہ اپنے ساتھی کے ساتھ جسے وہ اپنے ساتھ لایا تھا، غصہ میں واپس لوٹا۔راستے میں اس کے ساتھی نے اس سے کہا کہ میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی ہے آؤ واپس چلتے ہیں۔میں محمد ﷺ کو باتوں میں لگاؤں گا اور تم تلوار کا وار کر کے کام تمام کر دینا۔عامر کچھ پتا بھی تھا، لگتا ہے اس کو عقل بھی زیادہ تھی۔اس نے کہا اس سے تو بہت بڑا خطرہ ہے۔اس کے بعد آپ ﷺ کے ساتھی ہمیں قتل کر دیں گے۔اس ساتھی نے جو زیادہ ہی شیطان فطرت تھا کہا کہ ہم اس کے بدلہ میں دیت دے دیں گے۔بہر حال اس نے اپنے ساتھی کو منالیا اور وہ واپس لوٹے۔عامر کے ساتھی نے آپ میں سے باتیں شروع کیں اور عامر نے پیچھے کھڑے ہو کر تلوار سونتی لیکن وہ آپ پر وار نہ کر سکا۔اللہ تعالیٰ نے اس پر