خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 477
477 خطبہ جمعہ فرموده 19اکتوبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم اس محبت کے بارہ میں کہ یہ کیسی محبت ہونی چاہئے اور اس کی اصل گہرائی کیا ہے اور اس کا کیا مطلب ہے؟ اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ” جاننا چاہئے کہ محبت کوئی تصنع اور تکلف کا کام نہیں۔بلکہ انسانی قویٰ میں سے یہ بھی ایک قوت ہے اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ دل کا ایک چیز کو پسند کر کے اس کی طرف کھینچے جانا اور جیسا کہ ہر یک چیز کے اصل خواص اس کے کمال کے وقت بدیہی طور پر محسوس ہوتے ہیں ( اچھی طرح محسوس کئے جاتے ہیں ) یہی محبت کا حال ہے کہ اس کے جو ہر بھی اس وقت کھلے کھلے ظاہر ہوتے ہیں کہ جب اتم اور اکمل درجہ پر پہنچ جائے۔( جب اپنی محبت جو ہے انتہا کو پہنچ جائے ، کامل ہو جائے تو پھر اس محبت کے جو جو ہر ہیں ، اس کے جو نتائج ہیں، اس کی جو خو بیاں ہیں وہی پھر ظاہر ہوتی ہیں۔) فرمایا: أُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجُلَ (البقرة: 94) یعنی انہوں نے گوسالہ سے ایسی محبت کی تو گویا ان کو گوسالہ شربت کی طرح پلا دیا گیا۔در حقیقت جو شخص کسی سے کامل محبت کرتا ہے تو گویا اسے پی لیتا ہے۔یا کھالیتا ہے اور اس کے اخلاق اور اس کے چال چلن کے ساتھ رنگین ہو جاتا ہے اور جس قدر زیادہ محبت ہوتی ہے اسی قدر انسان بالطبع اپنے محبوب کی صفات کی طرف کھینچا جاتا ہے۔یہاں تک کہ اسی کا روپ ہو جاتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔یہی بھید ہے کہ جو شخص خدا سے محبت کرتا ہے وہ ظلمی طور پر بقدر اپنی استعداد کے اس نور کو حاصل کر لیتا ہے جو خدا تعالیٰ کی ذات میں ہے اور شیطان سے محبت کرنے والے وہ تاریکی حاصل کر لیتے ہیں جو شیطان میں ہے۔فرمایا ” محبت کی حقیقت بالالتزام اس بات کو چاہتی ہے کہ انسان سچے دل سے اپنے محبوب کے تمام شمائل اور اخلاق اور عبادات پسند کرے اور ان میں فنا ہونے کے لئے بدل و جان ساعی ہو ( کوشش کرے ) تا اپنے محبوب میں ہو کر وہ زندگی پاوے جو محبوب کو حاصل ہے۔سچی محبت کرنے والا اپنے محبوب میں فنا ہو جاتا ہے۔اپنے محبوب کے گریبان سے ظاہر ہوتا ہے ( یعنی ہر وقت محبوب کے گریبان میں، اس کے دل میں اس کی تصویر رہتی ہے ) اور ایسی تصویر اس کی اپنے اندر کھینچتا ہے کہ گویا اسے پی جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ اس میں ہو کر اور اس کے رنگ میں رنگین ہو کر اور اس کے ساتھ ہو کر لوگوں پر ظاہر کر دیتا ہے کہ وہ در حقیقت اس کی محبت میں کھویا گیا ہے۔محبت ایک عربی لفظ ہے اور اصل معنی اس کے پر ہو جانا ہیں۔چنانچہ عرب میں یہ مثل مشہور ہے کہ تَحَبَّبَ الْحِمَارُ یعنی جب عربوں کو یہ کہنا منظور ہو جاتا ہے کہ گدھے کا پیٹ پانی سے بھر گیا تو کہتے ہیں کہ تَحَبَّبَ الْحِمَارُ ( یعنی اس کا پیٹ پانی سے بھر گیا ) اور جب یہ کہنا منظور ہوتا ہے کہ اونٹ نے اتنا پانی پیا کہ وہ پانی سے پر ہو گیا۔تو کہتے ہیں شَرِبَتِ الْإِبِلُ حَتَّى نَحَبَّبَتْ۔اور حسب جو دانہ کو کہتے ہیں ( کسی بھی قسم کے دانہ کو حب کہتے ہیں ) وہ بھی اسی سے نکلا ہے جس سے یہ مطلب ہے کہ وہ پہلے دانہ کی تمام کیفیت سے بھر گیا ( اور جو پہلا دا نہ تھا اس کی تمام کیفیت اس دانہ میں پیدا ہوگئی ) اور 66