خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 476 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 476

476 خطبہ جمعہ فرمودہ 9اکتوبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم اس میں پہلی بات تو یہ بتائی کہ انسان کا جو مقصد پیدائش ہے وہ تو اللہ تعالیٰ سے محبت اور اس کو یا درکھنا ہے۔لیکن بعض لوگ اس مقصد کو بھول جاتے ہیں بلکہ اس طرف توجہ نہیں دیتے۔بلکہ دنیا کی اکثریت محبت الہی کو نہ جانتی ہے، نہ سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔بلکہ اس کے مقابل پر یا تو ظاہری بتوں کی پوجا کی جاتی ہے یا بعض قسم کے بت دلوں میں گڑے ہوئے ہیں اور ان کی محبت ایسے لوگوں کے دلوں میں اتنی زیادہ گڑ جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا تصور ہی نہیں رہتا۔لیکن اس کے مقابلے پر حقیقی مومن اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت سب محبتوں سے زیادہ شدید رکھتے ہیں۔پس اس آیت میں جہاں خدا تعالیٰ سے دور ہٹے ہوؤں کو یہ وارننگ ہے کہ تم سمجھتے ہو کہ غیر اللہ سے محبت تمہیں کچھ فائدہ پہنچا سکتی ہے تو یا د رکھو کہ وہ سب بے طاقت چیزیں ہیں۔ان میں کوئی طاقت نہیں۔اصلی طاقت اور قوت تو خدا تعالیٰ کو حاصل ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ہے کہ میں شرک کرنے والے کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔پس اس دنیا کی عارضی متاع تمہیں خدا تعالیٰ سے دور لے جا کر تمہیں تمہارے بد انجام کی طرف دھکیل رہی ہے لیکن مومنوں کو بتایا کہ اگر مومن ہونے کا دعوی ہے تو حقیقی مومن کی یہ تعریف ہے کہ اس کو خدا تعالیٰ سے محبت سب محبتوں سے زیادہ ہوتی ہے۔اس کی محبت ہر قسم کی محبت پر حاوی ہوتی ہے اور جو کچھ اسے دنیاوی اور اخروی انعامات ملنے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے ہی ملنے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے محبت، پھر اللہ تعالیٰ کے پیاروں سے محبت کی طرف بھی راہنمائی کرتی ہے۔پس ہمیشہ ایک مومن کو یا درکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت تب کامل ہو گی جب اس کے رسول ﷺ سے بھی بے غرض محبت ہو۔فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله ( آل عمران : 32) کے مضمون کو سمجھنا ہوگا۔درود و صلوۃ سے اپنی محبت کا اظہار کرنا ہو گا۔دنیا کی کوئی محبت ان دونوں محبتوں پر حاوی نہیں ہونی چاہئے۔پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق سے محبت کا بھی کہا ہے۔تو دوسرے انسانوں سے محبت بھی خدا تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لئے ضروری ہے۔پھر فرمایا کہ مشرک تو شرک کر کے جو عذاب اپنے پر سہیڑ رہے ہیں وہ تو ہے ہی۔لیکن مومن ہونے کا دعویٰ کرنے والے بھی اگر ان محبتوں کا خیال نہیں رکھیں گے جو خدا تعالیٰ سے محبت کے نتیجہ میں پیدا ہونی چاہئے تو اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفت قوی کو اہمیت نہیں دے رہے ہوں گے۔اُس کو اُس کا مقام نہیں دے رہے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کی جو پکڑ ہے اس پر ایسے لوگوں کی نظر نہیں ہوتی۔پس ایک مومن کو اپنی زندگی میں اپنا ہر قدم اپنے سب طاقتوں والے خدا کا ادراک رکھتے ہوئے اور اس کو سب طاقتوں کا مالک سمجھتے ہوئے اٹھانا چاہئے۔پس اللہ تعالیٰ نے مشرکین اور غیر اللہ کو خدا تعالیٰ کے مقابلے پر زیادہ اہمیت دینے والوں کو جہاں ان کے بد انجام اور عذاب سے آگاہ کیا ہے اور ڈرایا ہے اور ان کے واقعات بیان کئے ہیں وہاں مومنوں کو اللہ تعالیٰ سے محبت کی گہرائی تلاش کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔