خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 478 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 478

خطبات مسرور جلد ہفتم 478 خطبه جمعه فرموده 9اکتوبر 2009 اسی بنا پر احباب سونے کو بھی کہتے ہیں۔کیونکہ جو دوسرے سے بھر جائے گا وہ اپنے وجود کو کھو دے گا۔گویا سو جائے گا اور اپنے وجود کی کچھ حس اس کو باقی نہیں رہے گی۔( نورالقرآن حصہ دوم۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 431-430) پس اللہ تعالیٰ کی حقیقی محبت ایک مومن کے لئے یہ ہے کہ اس کی رضا کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کی کوشش کرے اور پھر دیکھے کہ وہ طاقتو ر خدا جو ہے، سب طاقتوں کا مالک خدا جو ہے، قوی خدا جو ہے اس کے لئے کیا کچھ کرتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے سورۃ حج میں 41 ویں آیت میں طاقتور کافروں کے مقابلہ پر اپنے قوی ہونے کا ذکر کرتے ہوئے مومنوں کو تسلی دی ہے کہ اب کیونکہ ظلم کی انتہا ہو رہی ہے اس لئے باوجود کمزور ہونے کے باوجود تعداد میں تھوڑے ہونے کے باوجود بے سروسامان ہونے کے تم ان کافروں سے جنگ کرو جو نہ صرف شرک میں انتہا کئے بیٹھے ہیں بلکہ ظلم کی بھی انتہا کر رہے ہیں۔اب مذہب کی بقا کا سوال ہے ورنہ ظلم جو ہیں بڑھتے چلے جائیں گے اور اللہ کے شریک ٹھہرانے والے کسی مذہب کو بھی برداشت نہ کرتے ہوئے ظلم کا نشانہ بناتے چلے جائیں گے۔جیسا کہ وہ فرما تا ہے الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍ إِلَّا اَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ ، وَلَوْ لَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَواتٌ وَمَسجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ (الحج:41) یعنی وہ لوگ جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا محض اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اگر اللہ کی طرف سے لوگوں کا دفاع ان میں سے بعض کو بعض دوسروں سے بھڑا کر لڑا کر نہ کیا جاتا تو راہب خانے منہدم کر دیئے جاتے اور گرجے بھی اور یہود کے معاہد بھی اور مساجد بھی جن میں بکثرت اللہ کا نام لیا جاتا ہے اور یقیناً اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرتا ہے یقیناً اللہ بہت طاقتور اور کامل غلبہ والا ہے۔پس امن قائم رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ظلم کا جواب بختی سے دینے کی اجازت دی۔یہ کروتو اللہ تعالیٰ کی مدد تمہارے شامل حال رہے گی۔پس یہاں اصولی بات بتادی کہ مذہب کی جو جنگیں ہیں یا جو جنگ ہے وہ تمہارے پر ٹھونسی جائے تو دفاع کرنا ہے۔نہ صرف اپنے مذہب کا دفاع کرنا ہے بلکہ غیر مذاہب کا بھی دفاع کرنا ہے کیونکہ مسلمان کا دعوی ہے کہ ہم نے کسی مذہب کے پیرو سے بھی بزور باز ومذہب تبدیل نہیں کرانا۔کیونکہ یہ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے اور دنیا کا امن برباد کرنے والی بات ہے۔ہدایت دینایا نہ دینا خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے۔ہاں پیار سے ،طریقے سے ، حکمت سے تبلیغ کا فریضہ ایک مسلمان کو ادا کرنا چاہئے اور یہ اس کے لئے ضروری ہے۔پھر تیسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مذہبی جنگ میں مظلوم اور حق پر رہنے والے کی ضرور مدد کرتا ہے اور اس زمانہ