خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 475 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 475

خطبات مسرور جلد ہفتم 475 (41) خطبہ جمعہ فرمودہ 19اکتوبر 2009 فرمودہ مورخہ 09 اکتوبر 2009ء بمطابق 09 را خاء 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے قوی ہونے کا قرآن کریم میں کئی جگہ ذکر آتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ وہ قوی ہے۔انسانوں کے لئے تو قوی کے عام معنی یہ لئے جاتے ہیں کہ جسمانی اور عقلی طور پر طاقت رکھنا۔کسی کام کو کرنے کی طاقت رکھنا، علمی طور پر مضبوط دلیل رکھنے والا لیکن خدا تعالیٰ کے بارے میں جب ہم قوی کہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ تمام طرح کی طاقت رکھنے والا ، ہر قسم کی طاقت رکھنے والا جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔وہ سب طاقتوروں سے زیادہ طاقتور ہے اور طاقتوں کا مالک ہے۔اپنی مخلوق کو بھی بعض قسم کی طاقتیں دے کر ان حدود کے اندر قوی بنا دیتا ہے۔قرآن کریم میں جیسا کہ میں نے کہا خدا تعالیٰ نے اپنی صفت کا مختلف حوالوں سے ذکر فرمایا ہے اور جہاں بھی ذکر فرمایا ہے یا تو تنبیہ کرتے ہوئے یا بد انجام سے ڈراتے ہوئے یا بد انجام کے بارہ میں بتاتے ہوئے۔یا ان لوگوں کے انجام کا ذکر ہے جو خدا تعالیٰ کی باتوں پر کان نہیں دھرتے اور ان پر اللہ تعالیٰ کے عذاب نازل ہوئے۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تمام طاقتوں والا اور قوی سمجھنے والے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے ہیں۔سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ میں اللہ تعالیٰ کے غیر اور مشرکین یا بتوں کی عبادت کرنے والے جو ہیں ان کو تنبیہ کی ہے کہ یہ شرک عذاب کا مورد بنائے گا۔لیکن اس میں ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ مومن کی یہ نشانی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز پر حاوی کر لیتے ہیں۔سورۃ بقرہ کی 166 ویں آیت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ۔وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ۔وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً وَّاَنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ (البقرة : 166) اور لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو اللہ کے مقابل پر شریک بنا لیتے ہیں۔وہ ان سے اللہ سے محبت کرنے کی طرح محبت کرتے ہیں۔جبکہ وہ لوگ جو ایمان لائے اللہ کی محبت میں ( ہر محبت سے ) زیادہ شدید ہیں۔اور کاش ! وہ (لوگ) جنہوں نے ظلم کیا سمجھ سکیں جب وہ عذاب دیکھیں گے کہ تمام تر قوت ( ہمیشہ سے اللہ ہی کی ہے اور یہ کہ اللہ عذاب میں بہت سخت ہے۔