خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 461
461 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 ستمبر 2009 ہیں ،لڑکیوں کے لباس ہیں، بچپن میں ہی 4-5 سال کی عمر میں لباس کی طرف توجہ دلائیں گے تو بڑے ہو کر ان میں احساس پیدا ہو گا۔13-14 سال کی عمر میں احساس کروائیں کہ ایک دم جیز بلاؤز سے اب تم کوٹ پہن لو تو وہ بچی آگے سے رد عمل دکھائے گی۔اس لئے فرمایا کہ اخلاقی حالت کو درست نہیں کیا جاتا۔اس کی طرف بچپن سے توجہ دینی چاہئے۔فرمایا کہ: یہ یا درکھو کہ اس کا ایمان درست نہیں ہوسکتا جو اقرب تعلقات کو نہیں سمجھتا۔جب وہ اس سے قاصر ہے تو اور نیکیوں کی امید اس سے کیا ہو سکتی ہے“۔( جو قریب قریب کے تعلقات ہیں ان کا بھی اگر خیال نہیں ہے تو باقی نیکیاں کس طرح آ سکتی ہیں )۔اللہ تعالیٰ نے اولاد کی خواہش کو اس طرح پر قرآن میں بیان فرمایا ہے رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيتَنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا (الفرقان : 75)۔یعنی خدا تعالیٰ ہم کو ہماری بیویوں اور بچوں سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرما دے اور یہ تب ہی میسر آسکتی ہے کہ وہ فسق و فجور کی زندگی بسر نہ کرتے ہوں۔بلکہ عباد الرحمن کی زندگی بسر کرنے والے ہوں اور خدا کو ہر شے پر مقدم کرنے والے ہوں اور آگے کھول کر یہ کہہ دیا وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا۔اولا داگر نیک اور متقی ہو تو یہ ان کا امام ہی ہو گا اس سے گویا متقی ہونے کی بھی دعا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 563-562 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) یعنی اس میں اپنے متقی ہونے کی بھی دعا ہے۔پس بچوں کی تربیت کے لئے جو متقی ہونا اور عبادالرحمن ہونا شرط ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اپنے متقی ہونے کے لئے بھی دعا اور کوشش کرنی چاہئے اور جب ہم خود متقی ہونے کی کوشش کریں گے تو ان خصوصیات کے بھی حامل ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے عباد الرحمن کی بیان فرمائی ہیں اور یہی باتیں اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والی ہوں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ” انسانوں میں سے بھی جو سب سے زیادہ قابل قدر ہے اسے اللہ تعالی محفوظ رکھتا ہے اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا سچا تعلق رکھتے اور اپنے اندرونہ کو صاف رکھتے ہیں اور نوع انسان کے ساتھ خیر اور ہمدردی سے پیش آتے ہیں اور خدا کے بچے فرمانبردار ہیں۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 305 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) ایک بچے احمدی میں یہ خصوصیات ہونی چاہئیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہمیں اس کے ساتھ سچا تعلق ہو اور ہمارا اندرونہ ہمیشہ صاف رہے اور ہم اُن خصوصیات کے حامل بنیں جو عبادالرحمن بننے کے لئے ضروری ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ اپنی دائی جنتوں کا وارث بنائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 16 شماره 42 مورخہ 16 اکتوبر تا122اکتوبر 2009 صفحہ 5 تا صفحه 8