خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 460
460 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 ستمبر 2009 سنبھالنا ہے تو اس کی کوئی حد مقرر کی جائے کہ کس حد تک والدین نے برداشت کرنا ہے اور کہاں اپنے بچوں کو سزا دینی ہے۔کیونکہ والدین جب کسی غلط حرکت پر سزا دیتے ہیں تو یہاں مغربی ممالک میں بچوں کی حفاظت کے جو ادارے بنے ہوئے ہیں وہ بچوں کو اپنے پاس لے جاتے ہیں یا بچے والدین کو یہ دھمکی دیتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ کہا تو ہم وہاں چلے جائیں گے اور اس بات نے بچوں کو حد سے زیادہ بے باک کر دیا ہے۔وہ کسی لینے دینے میں نہیں رہے۔بعض خاندان تو ایسے ہیں کہ ان کے بچوں کی حالت بہت ہی بُری ہو چکی ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ دُعا کا خانہ خالی ہے۔پس فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ بچوں کی صحیح تربیت ہو اور پھر اس کے ساتھ ہی اپنے نیک نمونے بھی قائم کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: پھر ایک اور بات ہے کہ اولاد کی خواہش تو لوگ بڑی کرتے ہیں اور اولاد ہوتی بھی ہے مگر یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ وہ اولاد کی تربیت اور ان کو عمدہ اور نیک چلن بنانے اور خدا تعالیٰ کا فرمانبردار بنانے کی سعی اور فکر کریں۔نہ کبھی ان کے لئے دعا کرتے ہیں اور نہ مراتب تربیت کو مدنظر رکھتے ہیں۔( تربیت کے جو مختلف درجے ہیں کہ کس طرح کرنی ہے۔کس عمر میں کس قسم کی تربیت ہونی چاہئے۔کس عمر سے بچوں کو سنبھالنا ہے۔اس کی طرف توجہ نہیں ہے۔) فرمایا کہ: ” میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں جس میں میں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا۔بہت سے والدین ایسے ہیں جو اپنی اولا دکو بری عادتیں سکھا دیتے ہیں۔ابتداء میں جب وہ بدی کرنا سیکھنے لگتے ہیں تو ان کو تنبیہ نہیں کرتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دن بدن دلیر اور بے باک ہوتے جاتے ہیں۔لوگ اولاد کی خواہش تو کرتے ہیں مگر نہ اس لئے کہ وہ خادم دین ہو بلکہ اس لئے کہ دنیا میں ان کا کوئی وارث ہو۔اور جب اولا د ہوتی ہے تو اس کی تربیت کا فکر نہیں کیا جاتا۔نہ اس کے عقائد کی اصلاح کی جاتی ہے“۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 562 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) بچوں کو سکھایا بھی نہیں جاتا۔کسی نے مجھے بتایا، کسی دوسرے مسلمان نے کسی بچے یا بچی کو کہہ دیا کہ تم لوگ تو شیطان کی عبادت کرنے والے ہو۔خدا کو نہیں مانتے۔اچھا بھلا ہوش مند بچہ تھا یا بچی تھی لیکن اس کو پتہ ہی نہیں تھا کہ جواب کیا دینا ہے اور خاموش ہوگئی۔اس خاموشی سے دوسرے بچوں نے یقینا یہ تاثر لیا ہوگا کہ جو احمدی ہیں یہ خدا کو نہیں ماننے والے۔تو بنیادی چیزیں بھی بعض والدین اپنے بچوں کو نہیں بتاتے۔فرمایا: اور نہ اخلاقی حالت کو درست کیا جاتا ہے۔اخلاقی حالت کو اگر بچپن سے درست کیا جائے تو بچہ کبھی والدین کے سامنے کھڑا ہی نہیں ہو سکتا کہ آگے سے تو تکار کرے۔پہلے میں ایک دفعہ کہہ چکا ہوں۔بچوں کے لباس