خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 462
خطبات مسرور جلد ہفتم 462 (40) خطبہ جمعہ فرموده 2 اکتوبر 2009 فرمودہ مورخہ 02/اکتوبر 2009ء بمطابق 02 را خاء 1388 ہجری کسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد ان آیات کی تلاوت فرمائی: ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ۔إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّبِرِينَ۔وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاء وَلَكِن لَّا تَشْعُرُونَ۔وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الأَمْوَالِ وَالاَ نُفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ۔(البقرة: 158-154) یہ آیات جومیں نے تلاوت کی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ نے اُن مومنوں کا نقشہ کھینچا ہے جو جب کسی ابتلا یا امتحان میں پڑتے ہیں تو ان کا ایمان کبھی ڈانواڈول نہیں ہوتا۔بلکہ ابتلاؤں کے ساتھ ان کے ایمانوں میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے اور پہلے سے زیادہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتے ہیں۔ان آیات کا میں ترجمہ پڑھ دیتا ہوں۔فرمایا کہ: اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ سے صبر اور صلوٰۃ کے ساتھ مدد مانگو۔یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔اور جو اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں ان کو مر دے نہ کہو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم شعور نہیں رکھتے اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف اور کچھ بھوک اور کچھ اموال اور جانوں اور پھلوں کے نقصان کے ذریعہ آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دیدے۔ان لوگوں کو جن پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم یقینا اللہ ہی کے ہیں اور ہم یقینا اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے برکتیں ہیں اور رحمت ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت پانے والے ہیں۔جیسا کہ پہلی آیت سے ظاہر ہے، اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو صبر اور صلوٰۃ کی تلقین فرمائی ہے۔گویا یہ دو خصوصیات ایسی ہیں جو ایک مومن میں ہونی چاہئیں اور خاص طور پر ان کا اظہار مشکلات کے وقت یا ابتلا کے وقت ہونا چاہئے یہ بظاہر مختصر الفاظ ہیں لیکن اس کے وسیع معانی ہیں۔صبر کے ایک معنے تو یہ ہیں کہ انسان تکلیف پہنچنے پر شکووں اور رونے دھونے سے بچے اور ابتلا کو اگر وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے تو بغیر کسی شکوے اور شکایت کے برداشت کرے۔کیونکہ یہ شکوے اور کسی نقصان پر رونا جذباتی حالت میں بعض دفعہ ایسے فقرات منہ سے نکلوادیتا ہے جو خدا تعالیٰ سے شکوہ اور کفر بن جاتے ہیں۔