خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 416
416 خطبه جمعه فرموده 4 ستمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم خوف کا مقام ہے، ہر احمدی کے لئے یہ لحہ فکر یہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ ہم زمانہ کے امام کو اس لئے ما نہیں کہ ہم نے قرآن کریم کی حکومت اپنے پر لاگو کرنی ہے۔ہم نے اس خوبصورت تعلیم کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کرنی ہے۔پس قرآن کریم کی تلاوت کے بعد اس کی اس تعلیم پر عمل ہی ہے جو ہمیں اس عظیم اور لاثانی کتاب کو مہجور کی طرح چھوڑنے سے بچائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارہ میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: یا درکھو، قرآن شریف حقیقی برکات کا سرچشمہ اور نجات کا سچا ذریعہ ہے۔یہ ان لوگوں کی اپنی غلطی ہے جو قرآن شریف پر عمل نہیں کرتے۔عمل نہ کرنے والوں میں سے ایک گروہ تو وہ ہے جس کو اس پر اعتقاد ہی نہیں اور وہ اس کو خدا تعالیٰ کا کلام ہی نہیں سمجھتے۔یہ لوگ تو بہت دور پڑے ہوئے ہیں۔لیکن وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور نجات کا شفا بخش نسخہ ہے اگر وہ اس پر عمل نہ کریں تو کس قدر تعجب اور افسوس کی بات ہے۔ان میں سے بہت سے تو ایسے ہیں جنہوں نے ساری عمر میں کبھی اسے پڑھا ہی نہیں۔پس ایسے آدمی جو خدا تعالیٰ کے کلام سے ایسے غافل اور لا پرواہ ہیں۔ان کی ایسی مثال ہے کہ ایک شخص کو معلوم ہے کہ فلاں چشمہ نہایت ہی مصفی اور شیریں اور بختک ہے اور اس کا پانی بہت سی امراض کے واسطے اکسیر اور شفاء ہے“۔( ان کو یہ علم ہو کہ بہت میٹھے پانی والا یہ چشمہ ہے۔ٹھنڈا اور میٹھا پانی ہے اور اس کا پانی بہت سی بیماریوں کا علاج بھی ہے )۔اور یہ علم اس کو یقینی ہے لیکن با وجود اس علم کے اور باوجود پیاسا ہونے اور بہت سی امراض میں مبتلا ہونے کے وہ اس کے پاس نہیں جاتا۔تو یہ اس کی کیسی بدقسمتی اور جہالت ہے۔اسے تو چاہئے تھا کہ وہ اس چشمے پر مند رکھ دیتا اور سیراب ہو کر اس کے لطف اور شفاء بخش پانی سے حفظ اٹھاتا۔مگر با وجود علم کے اس سے ویسا ہی دور ہے جیسا کہ ایک بے خبر۔اور اس وقت تک اس سے ڈور رہتا ہے جو موت آ کر خاتمہ کر دیتی ہے۔اس شخص کی حالت بہت ہی عبرت بخش اور نصیحت خیز ہے۔مسلمانوں کی حالت اس وقت ایسی ہی ہو رہی ہے۔وہ جانتے ہیں کہ ساری ترقیوں اور کامیابیوں کی کلید یہی قرآن شریف ہے جس پر ہم کو مل کرنا چاہئے۔مگر نہیں۔اس کی پرواہ بھی نہیں کی جاتی۔ایک شخص جو نہایت ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ اور پھرنری ہمدردی ہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم اور ایماء سے اس طرف بلاوے تو اسے کذاب اور دجال کہا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے بارہ میں فرما رہے ہیں کہ جب میں درد سے تمہیں یعنی مسلمانوں کو اپنی طرف بلاتا ہوں کہ قرآن کریم پر عمل کرو تو کذاب ، جھوٹا اور دجال کہا جاتا ہے )۔فرماتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر اور کیا قابل رحم حالت اس قوم کی ہوگی۔فرمایا کہ مسلمانوں کو چاہئے تھا اور اب بھی ان کے لئے یہی ضروری ہے کہ وہ اس چشمہ کو عظیم الشان نعمت سمجھیں اور اس کی قدر کریں۔اس کی قدر یہی ہے کہ اس پر عمل کریں اور پھر دیکھیں کہ