خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 415
415 خطبه جمعه فرموده 4 ستمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم آسمان پر عزت پانا اور مقدم رکھا جانا کیا ہے؟ یہی کہ پھر خدا تعالیٰ اپنا فضل فرماتے ہوئے اپنا قرب عطا فرمائے گا۔قبولیت دعا کے نشان ملیں گے۔معاشرے کی برائیوں سے اس دنیا میں بھی انسان بچتا ر ہے گا۔پس جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرما دیا ہے کہ پہلی کوشش تمہاری ہوگی تو میں بھی دوڑ کر تمہارے پاس آؤں گا۔یہ نظارے دیکھنے کے لئے ہمیں قرآن کو عزت دینا ہوگی۔اس کی تلاوت کا حق ادا کرنا ہوگا۔اس کے حکموں کی پیروی کی کوشش کرنی ہوگی۔پھر آپ فرماتے ہیں: ” نوع انسان کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفی ہے۔سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ وجلال کے نبی کے ساتھ رکھوا اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ۔اور یا درکھو کہ نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہوگی بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دنیا میں اپنی روشنی دکھلاتی ہے۔نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جو یقین رکھتا ہے جو خدا سچ ہےاور محمد عل ہے اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے۔( یعنی شفاعت کرنے والے ہیں اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم رتبہ کوئی اور کتاب ہے۔اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے اور اس کے ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے خدا نے یہ بنیاد ڈالی ہے کہ اس کے افاضہ تشریعی اور روحانی کو قیامت تک جاری رکھا اور آخر کا ر اس کی روحانی فیض رسانی سے اس مسیح موعود کو دنیا میں بھیجا جس کا آنا اسلامی عمارت کی تکمیل کے لئے ضروری تھا۔کیونکہ ضرور تھا کہ یہ دنیا ختم نہ ہو جب تک کہ محمدی مسلسلہ کے لئے ایک مسیح روحانی رنگ کا نہ دیا جاتا جیسا کہ موسوی سلسلہ کے لئے دیا گیا تھا۔کشتی نوح - روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 13-14) پس یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم نے اس مسیح محمدی کی جماعت میں شامل ہو کر اللہ تعالیٰ کی کامل شریعت جو قرآن کریم کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے اس کے مقام کو مجھنے کا عہد کیا ہے۔آنحضرت ﷺ کے مقام خاتمیت نبوت کا ادراک حاصل کیا ہے جبکہ دوسرے مسلمان اس سے محروم ہیں۔پس یہ اعزاز ہمیں دوسروں سے منفرد کرتا ہے اور اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کو سمجھیں اور اس کی حقیقت کو جانیں اور اس کی حقیقی عزت اپنے دلوں میں قائم کریں۔بلکہ اس کا اظہار ہمارے ہر قول و فعل سے ہو۔اگر اس کا اظہار ہمارے ہر قول و فعل سے نہیں تو پھر یہ مہجور کی طرح چھوڑ دینے والی بات ہے اور یہ حالت پیشگوئی کی صورت میں خدا تعالیٰ نے خود قرآن کریم میں فرما دی ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا۔سورۃ الفرقان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان : 31) اور رسول کہے گا اے میرے رب ! یقیناً میری قوم نے اس قرآن کو متروک کر چھوڑا ہے۔ترک کر دیا ہے۔چھوڑ دیا ہے۔پڑھتے تو ہیں لیکن عمل کوئی نہیں۔پس بڑے ہی