خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 417
خطبات مسرور جلد ہفتم 417 خطبه جمعه فرموده 4 ستمبر 2009 خدا تعالیٰ کس طرح ان کی مصیبتوں اور مشکلات کو دور کر دیتا ہے۔کاش مسلمان سمجھیں اور سوچیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے یہ ایک نیک راہ پیدا کر دی ہے اور وہ اس پر چل کر فائدہ اٹھائیں۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 140-141 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اس اقتباس میں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسلمانوں کی حالت کا نقشہ کھینچا ہے اور افسوس کا اظہار فرمایا ہے۔وہاں ہماری ذمہ داری بھی بڑھتی ہے کہ اس خوبصورت تعلیم کو اس قد را اپنی زندگیوں پر لاگو کریں کہ بعض مسلمان گروہوں کے عملوں کی وجہ سے جو غیر مسلموں کو اسلام اور قرآن پر انگلی اٹھانے کی جرات پیدا ہوتی ہے وہ نہ رہے۔احمدیوں کے عمل کو دیکھ کر انہیں اپنی سوچیں بدلنی پڑیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سے احمدی ہیں جو قرآن کریم کی خوبصورت تعلیم دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں، لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جب بھی ہمارے جلسے ہوں، سیمینار ہوں قرآن کریم کی تعلیم پیش کی جاتی ہے تو برملا ان غیروں کا اظہار ہوتا ہے کہ اسلام کی تعلیم کا یہ رخ تو ہم نے پہلی دفعہ سنا ہے۔پس جب ہم ان باتوں کو اپنی روز مرہ زندگیوں کا بھی حصہ بنا لیں گے تو صرف تعلیم سنانے والے نہیں ہوں گے بلکہ عملی نمونے دکھانے والے بھی ہوں گے۔اس طرح احمدیوں کو اپنے دائرے میں مسلمانوں کو بھی یہ تعلیم پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے کہ تم ہمارے سے اختلاف رکھتے ہو تو رکھو لیکن اسلام کے نام پر اسلام کی کامل تعلیم و تو بدنام نہ کرو۔تمہارے لئے راہ نجات اسی میں ہے کہ صرف قرآن کریم کو ماننے کا دعوی نہ کرو بلکہ اس کی تعلیم پر غور کرو۔جس حالت کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نشاندہی فرمائی ہے اور جس طرح مسلمانوں کی مصیبتوں اور مشکلات کا ذکر فرمایا ہے وہ صورت جو ہے وہ آج بھی اسی طرح قائم ہے۔بلکہ بعض صورتوں میں مسلمانوں کی زیادہ نا گفتہ بہ حالت ہے اور جب تک قرآن کریم کو اپنا لائحہ عمل نہیں بنائیں گے اس مشکل اور مصیبتوں کے دور سے مسلمان نکل نہیں سکتے۔اسلام کا نام لینے سے اسلام نہیں آ جاتا۔اسلام کا حسن اس کی خوبصورت تعلیم سے خود بولتا ہے۔قرآن کریم کی تفسیر کوئی عالم خود نہیں کر سکتا جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کو وہ اسلوب نہ سکھائے جائیں اور وہ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اسے ہی سکھائے ہیں جسے یہ لوگ دجال اور کذاب اور پتہ نہیں کیا کچھ کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہی ان لوگوں پر رحم فرمائے اور ان کو عقل دے اور ہمیں پہلے سے بڑھ کر قرآن شریف کی تلاوت کا حق ادا کرنے اور اس کی تعلیم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اس کی عزت قائم کرنے والے ہوں اور اسے ہمیشہ مقدم رکھنے والے ہوں۔یہ عزت کس طرح قائم ہوگی اور اس کو مقدم کس طرح رکھا جا سکتا ہے، یہ میں پہلے بتا چکا ہوں۔اس بارہ میں خود قرآن کریم نے بھی مختلف جگہوں پر مختلف احکامات کے ساتھ ہماری راہنمائی فرمائی ہے۔بعض آیات یا آیات کے کچھ حصے میں یہاں مختصر پیش کرتا ہوں۔کس خوبصورت طریقے سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے مقام اور اس کی اعلیٰ تعلیم کے بارہ میں راہنمائی فرمائی ہے۔آج تو شاید یہ مضمون ختم نہ ہو سکے یعنی وہ