خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 358
خطبات مسرور جلد ہفتم 358 (32) خطبه جمعه فرموده 7 اگست 2009 فرموده مورخه 07 اگست 2009 ء بمطابق 07 ظہور 1388 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی: رَفِيعُ الدَّرَجَتِ ذُو الْعَرْشِ يُلْقِى الرُّوحَ مِنْ اَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التلاق۔(المؤمن : 16) اللہ تعالیٰ جو رَفِيعُ الدَّرَجت ہے، بہت بلندشان والا ہے۔تمام صفات کا مالک ہے۔وہ یہ اعلان فرماتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جس پر چاہتا ہے روح اتارتا ہے۔یعنی وہ پیغام دے کر بھیجتا ہے جو روحانی لحاظ سے زندگی بخش پیغام ہوتا ہے۔جو روحانی مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ان کو اس بات سے آگاہ کرتا ہے کہ یہ زندگی عارضی ہے اور باقی رہنے والی زندگی اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد شروع ہوتی ہے۔اس لئے اس دنیا میں جو کہ آزمائشوں اور امتحانوں کا گھر ہے ایسے اعمال بجالا و جو خدا تعالیٰ کو پسندیدہ ہوں۔اللہ تعالیٰ نے ہر قوم اور ہر زمانہ میں اپنے پیغمبر بھیجے ہیں اور اس زمانہ میں آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق آپ سے عشق و محبت کی وجہ سے مسیح موعود و مہدی معہود کو بھیجا۔اس شخص کو بھیجا جس کے متعلق پہلے سے ہی یہ اعلان آنحضرت ﷺ نے کر دیا تھا کہ وہ مہدی ہوگا۔اللہ تعالیٰ سے ہدایت یافتہ ہو گا اور اسلام کی بگڑی ہوئی حالت کو سنوارنے کے لئے مبعوث ہو گا۔پس یہ روح جو اللہ تعالیٰ کا پاکیزہ کلام ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں سے کرتا ہے۔یہی روحانی زندگی کا سامان بنتا ہے اور لوگوں کو سید ھے راستے کی طرف چلنے کی راہنمائی کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام بھی ہوا تھا کہ يُلْقِي الرُّوْحَ عَلَى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهِ ( تذکرہ صفحہ 533 ایڈیشن چہارم 2004 ء مطبوعہ ربوہ ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا ترجمہ کیا ہے کہ جس پر اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے اپنی روح ڈالتا ہے۔یعنی منصب نبوت اس کو بخشتا ہے۔پھر آپ کا ایک اور الہام ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا انتَ مِنِی بِمَنْزِلَةِ رُوحِی تُو مجھ سے بمنزلہ میری روح کے ہے۔(تذکرہ صفحہ 629 ایڈیشن چہارم 2004 ء مطبوعہ ربوہ ) پس یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے کہ اپنے خاص بندوں میں سے جس پر وہ چاہتا ہے یہ روح ڈال کر ان کے مقام کا