خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 359 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 359

359 خطبات مسرور جلد هفتم خطبه جمعه فرموده 7 اگست 2009 رفع کرتا ہے۔جس کا قرآن کریم میں ایک جگہ یوں ذکر آیا ہے کہ نَرْفَعُ دَرَجَتٍ مَّنْ نَّشَاءُ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ علیم (الانعام: 84 ) کہ ہم جس کو چاہتے ہیں درجات میں بلند کر دیتے ہیں یقینا تیرا رب بہت حکمت والا اور دائمی علم رکھنے والا ہے۔پس یہ خدا تعالیٰ ہے جو درجات کو بلند کرتا ہے۔اس دنیا میں اپنے روحانی نظام کو چلانے کے لئے اپنے انبیاء، اولیاء اور مقربین کو بھیجتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ حکیم بھی ہے اور علیم بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ اور علم اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ کس وقت میں، اور کن میں سے ، اور کس کو اپنے خاص پیغام کے ساتھ دنیا کی اصلاح اور انہیں ہوشیار کرنے کے لئے بھیجنا ہے اور اس زمانے میں اس حکیم اور علیم خدا نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام کو مسیح و مہدی بنا کر بھیجا ہے۔آخرین میں آپ کے مبعوث ہونے کا ذکر خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی فرمایا ہے۔اور آنحضرت ﷺ نے اس مسیح و مہدی کے مقام و مرتبہ اور ایک خاص نشانی بتا کر امت مسلمہ کو اسے قبول کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔مسلمان اگر آنحضرت اللہ کے اس پیغام کو غور سے اور صاف دل ہو کر پڑھیں اور سنیں تو کبھی آنحضرت ﷺ کے اس عاشق صادق کی مخالفت نہ کریں بلکہ اسے قبول کرنے کی طرف توجہ کریں۔آنحضرت ﷺ نے مسیح کو نبی اور اپنے خلیفہ کا مقام عطا فرمایا ہے اور فرمایا کہ جو بھی اس کا زمانہ پائے اسے میرا سلام پہنچائے۔( یہ حدیث مختصر بھی اور تفصیلی بھی مختلف کتابوں میں ہے المعجم الكبير للطبرانی میں بھی ہے۔پھر ابو داؤد اور مسند احمد بن حنبل میں بھی ہے )۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 مسند ابی ہریرہ حدیث نمبر 7957 عالم الكتب بيروت 1998ء) پھر آپ نے اپنے مہدی کے متعلق جو مسیح بھی ہے یہ نشانی بتائی جو سنن دار قطنی میں ہے کہ حضرت امام محمد باقر سے روایت ہے ( جو حضرت امام حسین کے پوتے امام علی زین العابدین کے صاحبزادے اور امام حسین کے پوتے تھے ) کہتے ہیں کہ ہمارے مہدی کی سچائی کے دونشان ہیں، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب سے زمین و آسمان پیدا ہوئے ہیں وہ کسی کی سچائی کے لئے اس طرح ظاہر نہیں ہوئے۔یعنی چاند کو اس کے گرہن کی تاریخوں میں سے پہلی تاریخ کو گرہن ہوگا اور سورج کو گرہن کی تاریخوں میں سے درمیانی تاریخوں کو گرہن ہوگا۔اور فرمایا کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ان دونوں کو اس سے پہلے بطور نشان کبھی گرہن نہیں ہوا۔سنن دار قطنی کتاب العیدین باب صفة صلاة الخسوف والكسوف و هيئتهما حديث (1777) پس یہاں اس مقام کو بتانے کے لئے آنحضرت ﷺ نے ایک غیر معمولی آسمانی نشانی کی طرف توجہ دلائی ہے جو اپنی شان کے ساتھ 1894ء میں پورا بھی ہوا۔وہاں لِمَهْدِيّنَا کہ ”ہمارے مہدی کے لئے“ کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔فرمایا إِنَّ لِمَهْدِيَّنَا ايَتَيْنِ کہ ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں اور یہ لفظ ہمارے مہدی کا استعمال کر کے اپنے پیارا اور قرب کا اظہار فرمایا ہے۔اس وقت میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جو بھی مسیح و مہدی آنے والا تھا اس کا ایک مقام تھا اور آنے کی نشانیاں بتائی گئی تھیں اور یہ نشانیاں ہمیں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلواۃ والسلام کی تائید میں نظر آتی ہیں اور ان کو دیکھ کر