خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 356
356 خطبہ جمعہ فرمودہ 31 جولائی 2009 خطبات مسرور جلد هفتم وقت یہ احساس بھی پیدا ہوا کہ آپ لوگوں پر دنیا کے کئی ممالک میں بے حد ظلم جاری ہے جو سراسر نا انصافی ہے۔کہتی ہیں کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ سال میں انشاء اللہ جلسہ سالانہ UK میں اکیلی نہیں ہوں گی بلکہ میرے ساتھ پارلیمنٹ کے مزید مبر بھی شامل ہوں گے۔تو یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں۔جلسہ کے موقع پر ایک خاموش تبلیغ ہورہی ہوتی ہے۔لوگ خود بھی ماحول سے اثر لے رہے ہوتے ہیں۔ایک دوسرے سے مل کر بھی اثر لے رہے ہوتے ہیں اور انفرادی طور پر بھی تبلیغ ہورہی ہوتی ہے۔ہمارے ڈیوٹی والے خدام بھی ان مواقع سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں۔مجھے پتہ لگا کہ ایک بس کا ڈرائیور ایرانی تھا۔اس کو ایک خادم نے وفات عیسیٰ اور حضرت مسیح موعود کی آمد کے بارہ میں بتایا۔تو جلسہ کے موقع پر یہ موقعے بھی ساتھ ساتھ مل رہے ہوتے ہیں اور یہ بھی ایسے اللہ کے فضل ہیں جن کے بعد میں بہترین نتیجے نکلتے ہیں۔پھر ایک احمدی خاتون ہیں مکرمہ ریم شَرِيقِی اَخلَف صاحبہ، یہ کہتی ہیں پہلی دفعہ میں نے شرکت کی اور جو جذبات تھے انہیں دنیا کی کوئی زبان بیان نہیں کرسکتی۔اس جلسے کی عظمت اور حسن اور تنظیم اور رضا کارانہ ڈیوٹی دینے والوں کا جذ بہ دیکھ کر فوراً یہ سوال دل میں اٹھتا تھا کہ دنیا میں کون اتنی منظم شکل میں یہ کام کر سکتا ہے۔اتنی بڑی تعداد کی ضیافت کون کر سکتا ہے۔ایک دل پر اتنے ہزاروں ہزار لوگوں کو کون جمع کر سکتا ہے۔تو اس کا ایک ہی جواب ملتا کہ خدا کا ہاتھ آپ کے اوپر ہے اور وہی دلوں میں محبت اور الفت پیدا کرتا ہے اور وہی کام آسان کرتا ہے۔کہتی ہیں پہلے میں عالمی بیعت ٹی وی پر دیکھتی تھی۔خود حاضر ہو کر بیعت کرنا تو ایک خواب تھا جو امسال خدا تعالیٰ نے پورا کیا۔انہوں نے بھی کچھ عرصہ پہلے ہی بیعت کی ہے ) جلسہ گاہ میں بیٹھ کر بیعت کرتے وقت لگا کہ گویا میں ایک نئی دنیا میں ہوں۔شدت جذبات سے دل کی اور ہی حالت ہو رہی تھی۔بدن پر لرزہ طاری تھا۔آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔خدا کی رحمت و عفو پر نظر تھی اور دل میں خوشی کی لہر سجدہ شکر میں تو گویا میں نے خدا تعالیٰ کو اپنے سے چند قدم کے فاصلے پر محسوس کیا۔خدا تعالیٰ سے اپنے گناہوں اور تقصیروں کی معافی مانگی۔ایسے لگا کہ یوم قیامت ہے اور دنیا بہت چھوٹی ہو گئی ہے۔پھر ایک اور خاتون ہیں مکرمہ عبیر رَضًا حِلْمِی صاحبہ، کہتی ہیں کہ جلسہ کے آخری لمحات میں شدید جذبات غالب رہے اور میں کہہ رہی تھی کہ جب میں واپس مصر پہنچوں گی تو اہل وطن کو چیخ چیخ کر کہوں گی کہ اے رسول اللہ نے کی اُمت ! اپنی نیند سے اٹھو۔تمہارا مہدی آ گیا ہے اور نشان ظاہر ہو گیا ہے۔پس اس کی تصدیق کے لئے دل سے کوشش کرو۔پھر ایک خاتون ہیں عزیز آمانی عودہ صاحبہ کہتی ہیں کہ میں اس دفعہ پہلی دفعہ جلسہ میں شامل ہوئی ہوں۔، دفعہ یہ دیکھ کر کہ اتنے زیادہ لوگوں کی مہمان نوازی ایک ہی وقت میں اتنے اچھے انتظام کے ساتھ ہو رہی ہے بڑی حیرت ہوتی ہے۔