خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 355 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 355

355 خطبہ جمعہ فرمودہ 31 جولائی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم ہوں کہ میں اپنے اس خوشگوار تجربے پر ایک کتاب لکھ سکتا ہوں۔میرے جذبات ہیں ان کو بیان کرنے کی طاقت نہیں ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی رحمتوں اور مہربانیوں کو گنا ایک مشکل امر ہے۔میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں روحانی طور پر سیراب ہو کر گھر فلاڈیلفیا امریکہ لوٹ رہا ہوں۔میں اپنے گناہوں سے تو بہ کرتا ہوں اور ان کو چھوڑتا ہوں اور نبی کریم ہے اور آپ کے عظیم خادم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام کو تمام ان لوگوں کو جن تک میں پہنچ سکوں گا پہنچاؤں گا۔محترمہ صَوَّاد رَزُوق صاحبہ، بیلجیئم کی مسلمان ممبر پارلیمنٹ ہیں۔بنیادی طور پر یہ مراکو سے تعلق رکھتی ہیں۔لیکن عرصے سے یہاں آباد ہیں، ہمبر پارلیمنٹ بھی ہیں۔انہوں نے وہاں تقریر بھی کی تھی جلسے پر پیغام دیا تھا۔انہوں نے لکھا کہ جلسے میں شامل ہونا میرے لئے یہ پہلا عظیم تجربہ تھا جو میں پہلے سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔پھر جب دعوت تھی اس میں گئی ہیں تو وہاں میری اہلیہ کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں تو انہوں نے ان کو تبلیغ کی تبلیغ اس طرح کی کہ آنحضرت ﷺ کا مقام حضرت عیسی کا مقام اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد ، بعثت، احمدی کیا سمجھتے ہیں ، ان باتوں پر آدھا گھنٹہ ان سے گفتگو ہوتی رہی۔اس کے بعد انہوں نے ہمارے جو مشنری ہیں ان کو ان کا حوالہ دے کر کہا کہ میں اُن کے پاس بیٹھی ہوئی تھی اور انہوں نے مجھے اس طرح سمجھایا ہے کہ میرا ذہن اب بالکل تبدیل ہو چکا ہے اور وہاں اس کے بعد کہتی ہیں کہ میں مزید جو معلومات ہیں امام مہدی کے بارے میں وہ حاصل کرنا چاہتی ہوں اور رات ڈھائی بجے تک وہ بیٹھی معلومات لیتی رہی ہیں۔اور انہوں نے میری اہلیہ کا حوالہ دے کر کہا کہ انہوں نے مجھے کچھ ایسا سمجھا دیا کہ اب چین نہیں آ سکتا جب تک میں پوری معلومات نہ لے لوں۔اور پھر کہتی ہیں کہ جماعت احمدیہ کے عقائد ونظریات سے مجھے دوبارہ روحانی زندگی عطا ہوئی ہے اور اب امام مہدی کی آمد کے بعد جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے مسلمانوں کا مستقبل روشن نظر آ رہا ہے۔میں جماعت احمدیہ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتی ہوں اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ میں احمدیت قبول کروں تو صرف میں اکیلی احمدیت قبول نہیں کروں گی بلکہ میرے ساتھ میرے عزیز واقارب اور دوست اور کئی تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل ہوں گے۔اور میرے آخری خطاب کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ آخری حصے میں عرب سے تعلق رکھنے والے احمدیوں سے خطاب کرتے ہوئے جو آپ نے کہا کہ لوگ جا گئیں، یہ آپ لوگوں کا فرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام لوگوں تک پہنچائیں اور مکہ میں جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ان کی جماعت کے لئے بھی دعائیں کریں۔اس دوران کہتی ہیں میں بہت روئی اور میری آنکھوں سے آنسو امڈ آئے کیونکہ میں عرب قوم سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ہوں اور ایک دن قبل ہی بیگم صاحبہ نے مجھے ضرورت امام مہدی اور صداقت مسیح موعود کے بارہ میں بتایا۔مجھے اس لمحے محسوس ہوا ( پھر میرا حوالہ دیا ) کہ جیسے وہ مجھے خود مخاطب ہیں۔تو کہتی ہیں کہ میرے دل میں اس