خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 334 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 334

خطبات مسرور جلد ہفتم 334 30 خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جولائی 2009 فرمودہ مورخہ 24 جولائی 2009 ء بمطابق 24 روفا 1388 ہجری شمسی بمقام حدیقہ المہدی آلٹن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ UK کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے۔UK جماعت گزشتہ 25 سال سے اب اُن جلسوں کے انعقاد کا انتظام کرتی ہے جو ایک لحاظ سے بین الاقوامی جلسے ہیں۔کیونکہ خلیفہ وقت کی یہاں موجودگی کی وجہ سے مختلف ممالک سے احمدی مہمان تو حسب توفیق زیادہ سے زیادہ یہاں آنے کی کوشش کرتے ہی ہیں لیکن غیر از جماعت احباب بھی جو جماعت احمدیہ کو دنیا کی باقی اسلامی جماعتوں سے یا کسی بھی قسم کی دینی جماعتوں سے مختلف سمجھتے ہیں اور اس وجہ سے تعلق رکھتے ہیں کہ یہ جماعت دوسروں سے مختلف ہے اور اسی وجہ سے اپنی نیک خواہشات کا اظہار بھی کرتے ہیں۔یہاں آ کے پیغام بھی پڑھتے ہیں۔ان کی بھی ایک تعداد ہے جو افریقہ کے علاوہ بعض دوسرے ممالک سے بھی آتی ہے اور ایک خاص اثر لے کر جاتی ہے۔ان کے تاثرات جیسا کہ میں جلسے کے بعد کے خطبے میں ہر سال بیان کیا کرتا ہوں وہ تو اُس وقت ہی بیان ہوں گے۔اس وقت میں احمدی احباب کو جن میں میزبان بھی اور مہمان بھی شامل ہیں، چند باتوں کی طرف توجہ دلاؤں گا۔زیادہ تر مہمانوں کو توجہ دلاؤں گا۔جہاں تک میز بانوں اور ڈیوٹی دینے والے کارکنان کا تعلق ہے، انہیں تو میں گزشتہ خطبے میں عمومی طور پر مہمان نوازی کے اسلوب ، اسوہ رسول ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت کے حوالے سے بتا چکا ہوں۔آج بعض اور باتیں ہیں جن میں سے چند ایک میزبانوں کے لئے اور باقی مہمانوں کے لئے ہیں وہ بیان کروں گا۔جیسا کہ میں نے کہا ایک لحاظ سے یہ جلسہ بین الاقوامی جلسہ کی صورت اختیار کر چکا ہے اور اس میں وہ غیر از جماعت بھی شامل ہوتے ہیں جو جماعت کے بارے میں نیک جذبات رکھتے ہیں اور مختلف پروگراموں میں اپنے اپنے وقت کے مطابق تینوں دن شامل ہوتے رہتے ہیں۔اور پھر ہمارے ہمسائے ہیں جن میں سے بعض ابھی تک ہمیں ان مسلمانوں کے زمرہ میں شامل کرتے ہیں جن کے بارے میں عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ وہ شدت پسند ہیں جس کی وجہ سے ان کے خیال میں دنیا میں فساد برپا ہے۔میں عموماً غیروں کی مجالس میں جب بھی مجھے موقع ملے ان کی یہ غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور بتا تا ہوں کہ اسلام کی تعلیم شدت پسندی کی تعلیم نہیں ہے۔اسلام کی تعلیم تو پیار اور لح کی تعلیم ہے اور اس تعلیم کو خوب