خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 333
333 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جولائی 2009 اس وقت ابھی جمعہ کے بعد میں دو جنازے غائب بھی پڑھاؤں گا۔ایک افسوسناک اطلاع یہ ہے کہ چوہدری محمود احمد صاحب چیمہ جو ہمارے بڑے پرانے مربی سلسلہ تھے ، 14 جولائی کو ہسپتال میں 81 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ نے 1939ء میں قادیان کے مدرسہ احمدیہ میں داخلہ لیا1949ء میں جامعہ احمد یہ احمد نگر سے مولوی فاضل کیا اور پھر جامعۃ المبشرین سے شاہد کا امتحان پاس کیا۔آپ کی بیرون ملک پہلی تقرری سیرالیون مغربی افریقہ میں ہوئی۔پھر وہاں سے واپسی پر مرکز سلسلہ میں مختلف ادارہ جات میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔پھر جرمنی اور انڈونیشیا میں بطور مربی سلسلہ خدمت کی توفیق پائی۔انڈونیشیا میں آپ کی خدمت کا دور بہت لمبا ہے جو 33 سال کے عرصے پر محیط ہے۔وہاں اس دوران آپ کو مربی انچارج کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا۔1996ء میں با قاعدہ سروس سے ریٹائر ہونے کے بعد آپ پھر انڈونیشیا میں جماعتی خدمات بجالاتے رہے۔کچھ عرصہ جامعہ احمدیہ انڈونیشیا کے پرنسپل بھی رہے اور 2002ء میں مستقل طور پر ربوہ واپس چلے گئے اور وفات تک وہیں مقیم تھے۔آپ کو 1966ء میں حج کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔بڑے نیک مخلص، باوفا اور خدمت دین کا جذبہ رکھنے والے فدائی واقف زندگی تھے۔ان کی طبیعت میں بڑی سادگی تھی۔خلافت سے انتہائی وفا کا تعلق تھا۔اللہ تعالیٰ ان کی نیکیاں ان کی نسلوں میں بھی جاری رکھے۔ان کی بیٹیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو صبر دے اور ان کے نمونے پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسرا جنازہ مکرمہ صاحبزادی امتہ المؤمن صاحبہ کا ہے جو صاحبزادہ مرزا نعیم احمد صاحب کی اہلیہ تھیں۔ان کی وفات 14 جولائی کو 68 سال کی عمر میں ہوئی ہے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کی پوتی اور صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب کی نواسی تھیں اور صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب و محترمہ نصیرہ بیگم صاحبہ کی بیٹی تھیں۔آپ 1939ء میں پیدا ہوئی تھیں اور مرزا نعیم احمد صاحب سے آپ کی شادی ہوئی۔اس طرح آپ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی بہو بنیں۔بہت صبر کرنے والی حوصلہ مند اور بڑی حلیم الطبع مخلص خاتون تھیں۔والدین فوت ہوئے ، خاوند فوت ہوئے بڑے حوصلہ اور صبر سے یہ سارے صدمے برداشت کئے۔کبھی ان کی زبان پر شکوہ نہیں ہوتا تھا۔میں نے دیکھا ہے ہمیشہ مسکراتی رہتیں۔بشاشت سے ملتیں اور انہوں نے بڑی لمبی بیماری کاٹی ہے۔بڑی تکلیف دہ بیماری کائی ہے۔لیکن ہمیشہ صبر اور تحمل سے یہی کہتی رہتی تھیں کہ ٹھیک ہوں اور اللہ کا شکر ادا کرتی تھیں حالانکہ وہ ڈاکٹر صاحب کے نزدیک انتہائی تکلیف دہ بیماری تھی۔کبھی احساس نہیں ہونے دیا کہ مجھے اتنی تکلیف ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے بھی درجات بلند کرے ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان کے بچوں کو ہمیشہ نیکیوں پر قائم رکھے۔ان کے تین بیٹے یادگار ہیں۔اب جمعہ کے بعد جیسا کہ میں نے کہا ان دونوں کی نماز جنازہ پڑھاؤں گا۔الفضل انٹر نیشنل جلد 16 شمارہ نمبر 32 مورخہ 7 اگست تا 13 اگست 2009 ، صفحہ 5 تا 8 )