خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 335 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 335

335 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جولائی 2009 نکھار کر اس زمانے میں ہمارے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رکھا ہے۔اس حوالے سے جو میں نے پہلے کہا کہ میں بعض انتظامی باتیں کروں گا۔تو پہلے میں اس حوالے سے غیروں کے لئے جو اسلامی تعلیم کے بارہ میں غلط تاثر رکھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں ان کے سامنے اس تعلیم کو پیش کرتا ہوں جس میں اسلام کی حسن و خوبی واضح ہوتی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ یہ اصول نہایت پیارا اور امن بخش اور صلح کاری کی بنیاد ڈالنے والا اور اخلاقی حالتوں کو ددینے والا ہے کہ ہم ان تمام نبیوں کو سچا سمجھ لیں جو دنیا میں آئے۔خواہ ہند میں ظاہر ہوئے یا فارس میں یا چین میں یا کسی اور ملک میں اور خدا نے کروڑ بادلوں میں ان کی عزت اور عظمت بٹھا دی اور ان کے مذہب کی جڑ قائم کر دی۔اور کئی صدیوں تک وہ مذہب چلا آیا۔یہی اصول ہے جو قرآن نے ہمیں سکھلایا۔اسی اصول کے لحاظ سے ہم ہر ایک مذہب کے پیشوا کو جن کی سوانح اس تعریف کے نیچے آ گئی ہیں، عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔گو وہ ہندوؤں کے مذہب کے پیشوا ہوں یا فارسیوں کے مذہب کے یا چینیوں کے مذہب کے یا یہودیوں کے مذہب کے یا عیسائیوں کے مذہب کے۔“ مددد (تحفہ قیصریہ۔روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 259) پھر آپ فرماتے ہیں کہ ” اسلام وہ پاک اور صلح کار مذہب تھا جس نے کسی قوم کے پیشوا پر حملہ نہیں کیا۔اور قرآن وہ قابل تعظیم کتاب ہے جس نے قوموں میں صلح کی بنیاد ڈالی اور ہر ایک قوم کے نبی کو مان لیا۔اور تمام دنیا میں یہ فخر خاص قرآن شریف کو حاصل ہے جس نے دنیا کی نسبت ہمیں یہ تعلیم دی کہ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (آل عمران : 85 ) یعنی تم اسے مسلمانو ! یہ کہو کہ ہم دنیا کے تمام نبیوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان میں یہ تفرقہ نہیں ڈالتے کہ بعض کو مانیں اور بعض کو ر ڈ کر دیں۔“ پیغام صلح روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 459) پس جب دوسروں کے بزرگوں کی اور بڑوں کی اور انبیاء کی عزت کی جائے تو پیار اور محبت کی فضا قائم ہوتی ہے۔وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوتے ہیں اور مبعوث ہونے کا دعوی کرتے ہیں یا جن کے ماننے والے ان کو خدا کا برگزیدہ سمجھتے ہیں اور ایک جماعت ان کے پیچھے چلنے والی ہے۔ان کی عزت کریں۔پس اس تعلیم کے ہوتے ہوئے اسلام کو شدت پسند اور دہشت گرد مذہب کہنا اور اس بنا پر ان لوگوں پر بدظنی بھی کرنا اور پھر بلا وجہ کے اعتراض بھی تلاش کرنا نہ صرف انصاف کے خلاف ہے بلکہ ظلم ہے۔اس لئے میں اپنے ایسے ہمسایوں سے کہوں گا کیونکہ جمعہ کے وقت بھی بعض دفعہ بعض آئے ہوتے ہیں یا نمائندے آئے ہوتے ہیں، اس ذریعہ سے ان تک یہ پیغام پہنچ جائے کہ ہمارے متعلق ہر قسم کی بدظنیوں کو نکال کر اپنے دل صاف کریں۔جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہمیں تو یہ حکم ہے کہ اپنے دشمن سے بھی اپنا سینہ صاف رکھو اور اس کے