خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 332
332 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جولائی 2009 سامعین ان کی مہمان نوازی کا اندازہ کر سکتے ہیں۔مجھ کو پان کھانے کی بری عادت تھی۔امرتسر میں تو مجھے پان ملا لیکن بٹالہ میں مجھ کو کہیں پان نہ ملا۔ناچارالا بچی وغیرہ کھا کر صبر کیا۔میرے امرتسر کے دوست نے کمال کیا کہ حضرت مرزا صاحب سے نا معلوم کس وقت میری اس بری عادت کا تذکرہ کر دیا۔جناب مرزا صاحب نے گورداسپورا ایک آدمی کو روانہ کیا۔دوسرے دن گیارہ بجے دن کے جب کھانا کھا چکا تو پان کو موجود پایا۔سولہ کوس سے پان میرے لئے منگوایا گیا تھا۔سیرت حضرت مسیح موعود۔جلد اول صفحہ 135-136 - مؤلفہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی) دیکھیں کس طرح غیروں کے لئے بھی اور اپنوں کے لئے بھی چھوٹی چھوٹی باتوں کا آپ خیال فرمایا کرتے تھے۔حیرت ہوتی ہے اس قدر مصروفیت کے باوجود آپ ان ساری باتوں کا خیال رکھتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کئی مرتبہ الہام فرمایا کہ يَاتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ کہ اس قدر لوگ تیری طرف آئیں گے جن راستوں پر وہ چلیں گے وہ راستے عمیق ہو جائیں گے اور فرمایا کہ وَلَا تَسْنَم مِنَ النَّاسِ اور لوگوں کی کثرت ملاقات سے تھک نہ جانا۔حضرت مسیح موعود کی زندگی کے جو بہت سے واقعات ہیں۔جب کثرت سے لوگ آتے تھے اور آپ ان کی مہمان نوازی کا حق بھی ادا کرتے تھے اور ان کو بڑی بشاشت سے ملتے بھی تھے ، اور یہ کیوں نہ ہوتا کہ یہ آپ کے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی ﷺ کی سنت تھی۔آپ کے محبوب کی سنت تھی اور اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کی اس بات کی تصدیق فرمائی تھی۔آج یہ ہمارا کام ہے کہ اس نیک صفت کو ہمیشہ اپنے اوپر جاری رکھیں لوگوں کے ذاتی مہمان آتے ہیں جن میں خونی رشتے ہوتے ہیں رحمی تعلق ہوتے ہیں، قرابت داریاں ہوتی ہیں دوستیاں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے مہمان نوازی کا حق ادا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔لیکن آج کل ، ان دنوں میں ہمارے پاس وہ مہمان آ رہے ہیں جو آئندہ جمعہ کو شروع ہونے والے جلسہ میں شامل ہونے کے لئے آ رہے ہیں۔اور یہ جلسہ اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر خالصتاً دینی اغراض کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شروع فرمایا تھا۔اور اس میں شامل ہونے والوں کو بھی خاص دعاؤں سے بھی نوازا تھا۔پس اس لحاظ سے یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاص مہمان ہیں جو خالصتاً دینی غرض سے آ رہے ہیں اور ہم یہی امید رکھتے ہیں کہ اس لئے آتے ہوں گے اور آ رہے ہیں۔ان کی مہمان نوازی ہم نے کرنی ہے اور خالصتا اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کرنی ہے اور دینی بھائیوں کے رشتے کی وجہ سے کرنی ہے۔پس ہمارا فرض ہے ، جن کے سپر دجلسہ کی ڈیوٹیاں کی گئی ہیں کہ پوری محنت ، اعلیٰ اخلاق ،صبر ، حو صلے اور دعا کے ساتھ ان کے سپر د جو کام کئے گئے ہیں ان کو سرانجام دیں۔ہر مہمان کی چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کا بھی خیال رکھیں۔ان کی ہر تکلیف کو دور کرنے کی کوشش کریں اور جلسہ کا نظام جو ہے وہ ہر شامل ہونے والے سے ایسا حسن سلوک کرے جس طرح وہ اس کا خاص مہمان ہے۔اللہ تعالیٰ سب ڈیوٹی دینے والوں کو اپنے فرائض احسن رنگ میں سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔