خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 271
271 خطبہ جمعہ فرمود ه 12 جون 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم عام مسلمانوں کے خلاف پھر ہندوؤں نے جماعت کی مدد کی اور مسجد تعمیر کی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں مسجد بھی بن گئی اور مشن ہاؤس بھی بن گیا۔پھر چنائی میں اس سال مسجد ہادی کی تعمیر ہوئی۔یہاں بھی دو منزلہ مسجد ہے اور ساتھ اس کے رہائشی حصہ بھی ہے اور اس مسجد کی تعمیر پر تقریباً پچاس لاکھ روپے خرچ ہوئے۔اور اب جب میں انڈیا کے دورہ پر گیا ہوں تو چنائی بھی گیا تھا۔یہاں اس مسجد کا افتتاح کیا اور اس وجہ سے وہاں ملاں بہت زیادہ بوکھلائے ہوئے ہیں۔میرے دورہ کے بعد سے مخالفت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔پیچھے ایک خاتون کی قبر کشائی کا جو واقعہ ہوا ہے ہمیں نے پچھلے جمعہ جنازہ پڑھایا تھا ، وہ بھی اسی وجہ سے ہوا ہے کہ مولوی سمجھ رہے ہیں کہ یہ تو اب ہر جگہ قبضہ کر لیں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اس ذریعہ سے تبلیغ کے راستے بھی کھول دیئے ہیں۔یہ جو قبر سے لاش باہر نکالنے کا واقعہ ہوا ہے اس کی وجہ سے مسلمانوں میں سے بھی شرفاء کی ایک بڑی تعداد جماعت کا ساتھ دے رہی ہے۔اسی طرح ایک لوکل ٹی وی چینل نے ، غیر احمدی مولویوں کو بلایا اور ہمارے لوگوں کو بھی بلایا اور تقریباً ایک ڈیڑھ گھنٹے کا ایک پروگرام ریکارڈ کیا گیا اور مناظرے کی طرح کی صورت پیدا ہوئی۔تو یہ پروگرام بھی ابھی انہوں نے ریکارڈ کیا ہے۔کہتے ہیں ہم ٹی وی پر دکھائیں گے۔اس سے بھی انشاء اللہ تعالیٰ اور وسیع راستے کھلیں گے۔تو اللہ تعالیٰ مخالفت میں بھی رستے کھول رہا ہے۔پھر بینن کا ایک واقعہ بتا دیتا ہوں۔میں نے پیچھے وہاں دورہ کیا تھا۔امیر صاحب بین کہتے ہیں کہ ایک علاقہ میں مسجد بنانی شروع کی تو اس کے بعد اس علاقے کے مُلاں مخالفت میں خوب سرگرم ہو گئے تھے، اکٹھے ہو کر اس گاؤں میں آنے لگے۔افریقن ملکوں میں یا ہندوستان وغیرہ میں جہاں جہاں بھی میں نے دورے کئے ہیں اس کی وجہ سے اس سال مخالفت بہت بڑھی ہے اور اس کی وجہ سے تبلیغ کے رستے بھی مزید کھلے ہیں۔تو کہتے ہیں مخالفت میں خوب سر گرم ہو گئے اور اکٹھے ہو کر اس گاؤں میں آنے لگے۔نو مبائعین کو ڈرانے اور دھمکانے لگے اور احمدیت چھوڑنے کو کہا۔کئی مرتبہ صدر صاحب جماعت سے کہا کہ تم احمدیت سے انکار کر دو اور مسجد نہ بننے دو۔ہم سے جتنے بھی پیسے لینے ہیں لے لو اور ہم تمہیں مسجد بنا دیتے ہیں۔مگر ہر مرتبہ اس مخلص احمدی نو مبائع نے ان مخالفین کو جواب دے دیا کہ جو کرنا ہے کرو۔ہم تو مسجد بنائیں گے اور یہ جواب دیتے رہے کہ یہاں جماعت ہی کی مسجد بنے گی اور یہاں اگر کوئی دین پھیلے گا ، اگر اسلام کی تبلیغ ہوگی تو جماعت احمدیہ کی طرف سے ہوگی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور تمام مخالفتوں کے باوجود یہ مسجد بن گئی۔پھر اللہ تعالیٰ غیروں کو احمدیت کی طرف وَسِعُ مَكَانَكَ کے ذریعہ سے کس طرح مائل کرتا ہے۔نائیجیریا کے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ ایگو آئیوو یونیورسٹی کے ایک لیکچرر نے ایم ٹی اے کے ذریعہ مسجد مبارک فرانس کے اختتامی پروگرام کو دیکھا اور ہمارے بکسٹال کے وزٹ کے دوران تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر سرزمین انگلستان اور فرانس میں اس طرح اللہ تعالیٰ کا نام بلند ہو رہا ہے تو یہ بعید نہیں کہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ ایک دن میروشلم اور امریکہ سے ہزاروں دفعہ اللہ کا نام بلند ہوا کرے گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کے ساتھ ہے۔