خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 272
272 خطبه جمعه فرموده 12 جون 2009 خطبات مسرور جلد هفتم پھر آئیوری کوسٹ سے ایک واقعہ یہ لکھتے ہیں۔آ بنگر و شہر میں مسجد کی تعمیر کے بعد لوگوں کی احمدیت کی طرف خاص توجہ ہوئی ہے۔ایک ہفتہ قبل کالج کے پروفیسر ویرا ابو بکر مشن ہاؤس آئے اور کچھ لٹر پچر خرید کر لے گئے۔مطالعہ کے بعد آئے کہ لٹریچر کے مطالعہ سے پہلے میں نے مسلسل استخارہ کیا کہ اسلام میں بہت سارے فرقے ہیں۔خدا سے سیدھی راہ کی راہنمائی کے لئے دعا کی تو مجھے خواب میں جماعت احمدیہ کے بارے میں بتایا گیا کہ اس جماعت کو دیکھو۔میں نے آپ لوگوں کے کام کا جائزہ لیا ہے۔مطالعہ کیا ہے۔للہ تعالیٰ نے میری راہنمائی فرمائی ہے اور پھر انہوں نے احمدیت قبول کر لی۔تو جیسا کہ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام وَسِعُ مَكَانَكَ جماعت کے پھیلنے کے ساتھ ساتھ قادیان کی حدود سے نکل کر دنیا میں بھی اپنی صداقت کا نشان دکھا رہا ہے اور جوں جوں اللہ تعالی تبلیغ میں وسعت پیدا کر رہا ہے، توں توں مکانیت میں بھی ہر جگہ وسعت پیدا ہوتی چلی جارہی ہے۔مکانیت بھی وسعت پذیر ہے۔بے شمار ایسی مثالیں ہیں، یہ چند مثالیں میں نے دی ہیں۔تبلیغ کے لحاظ سے ایم ٹی اے نے وسعت کے نئے دروازے کھولے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی جیسا کہ میں نے پہلے بتایا مخالفت بھی بڑھ رہی ہے۔لیکن یہ بھی اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو پورے کرنے کا ایک انداز ہے کہ جہاں افراد جماعت کو انفرادی طور پر یا جماعت کو مالی یا دنیاوی طور پر نقصان پہنچایا گیا یا پہنچائے جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔وہاں خدا تعالیٰ افراد جماعت کو بھی پہلے سے بڑھ کر عطا فرماتا ہے اور جماعت کی ترقی کی بھی نئی سے نئی راہیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔کسی کے مکان کو جلایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے بڑا اور بہتر مکان دے دیا۔کسی کی دکان کو جلایا گیا تو ایک کی جگہ دودود کا نیں اللہ تعالیٰ نے عطا فرما دیں۔کاروبار کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی تو اللہ تعالیٰ نے احمدیوں کے لئے ، جنہوں نے صبر اور حو صلے سے کام لیا پہلے سے بڑھ کر کاروبار مہیا کر دیئے۔اگر پاکستان میں ایک مسجد سیل (Seal) کی گئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی جگہ دس ہیں مسجد میں عطا فرما دیں۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا سلوک ہے جو ہر جگہ ہمیں نظر آ رہا ہے۔لیکن ساتھ ہی ہماری یہ ذمہ داری بھی ہے کہ اس خدا کے آگے جھکنے والے ہوں اور اس کے حقیقی بندے بہنیں جو اپنی نعمتوں سے ہمیں نواز رہا ہے اور ہر دم نو ا ز تا چلا جا رہا ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ إِنَّكَ مَعِى وَاهْلُكَ یعنی اور تو میرے ساتھ ہے اور ایسا ہی تیرے اہل بھی۔( تذکرہ صفحہ 624 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ) تو ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اہل بننے کے لئے اپنے اعمال کو ان نمونوں پر قائم کرنے کی کوشش کرنی ہوگی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے قائم فرمائے۔ور نہ تو اللہ تعالیٰ نے خون کا رشتہ ہونے کے باوجود بھی حضرت نوح کے بیٹے کو ان کے اہل سے نکال دیا تھا۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں اپنے آگے جھکا رہنے والا بنائے رکھے۔